جرمنی کے مصروف ترین فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر ملیریا کے نایاب پھیلاؤ کے نتیجے میں 6 ملازمین متاثر ہوگئے، جن میں سے 2 افراد ہلاک ہو گئے۔
جرمن محکمہ صحت کے حکام کے مطابق امکان ہے کہ ملیریا پھیلانے والے مچھر کسی طیارے کے ذریعے ایئرپورٹ پہنچے، جس کے بعد جولائی میں اس وبا کا پہلا کیس سامنے آیا۔
حکام کے مطابق متاثرہ تمام 6 افراد ایئرپورٹ کے مختلف شعبوں اور مختلف مقامات پر کام کرنے والے مرد ملازمین تھے۔ ماہرین خون کے نمونوں کا تجزیہ کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تمام افراد ایک ہی مچھر کے کاٹنے سے متاثر ہوئے یا مختلف مچھروں نے انہیں کاٹا۔
🇩🇪【恐怖】フランクフルト空港で「空港マラリア」が発生、従業員6人が感染し2人が死亡pic.twitter.com/FHJxXUwODB
■ドイツ・フランクフルト空港(2026年8月発表)
・空港従業員6人が渡航歴がないにもかかわらず熱帯熱マラリアを発症し、うち2人が死亡する事態が発生…— 世界のど迫力映像@フォレスト(Forest)🕊️ (@investorMM) August 28, 2026
ایئرپورٹ پر مچھروں کو پکڑنے کے لیے جال نصب کردیے گئے ہیں اور پکڑے جانے والے مچھروں کو لیبارٹری بھیجا جارہا ہے تاکہ ان کی نسل اور ممکنہ ماخذ کا تعین کیا جاسکے۔
فرینکفرٹ محکمہ صحت کے مطابق شہر کی عام آبادی کے لیے خطرہ انتہائی کم ہے، کیونکہ ملیریا ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل نہیں ہوتا بلکہ مخصوص اقسام کے مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ متاثرہ مچھروں سے متعلق لیبارٹری نتائج آنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔
جرمنی کے رابرٹ کوچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق ملک میں ملیریا کے زیادہ تر کیسز ایسے افراد میں سامنے آتے ہیں جو ملیریا سے متاثرہ ممالک کا سفر کرکے واپس آتے ہیں، جبکہ جرمن ایئرپورٹ پر مقامی طور پر ملیریا منتقل ہونا انتہائی نایاب ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عالمی ادارہ صحت کا پاکستان کو ملیریا کے خلاف کوششیں تیز کرنے کا مشورہ
ادارے کے مطابق فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر اس سے قبل بھی 2023 میں ملیریا کا ایک کیس سامنے آیا تھا۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ملیریا مخصوص اقسام کے مچھروں کے ذریعے پھیلنے والی بیماری ہے اور اس کے زیادہ تر کیسز گرم اور استوائی ممالک میں پائے جاتے ہیں۔














