وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ملک گیر احتجاج اور ملک بند کرنے کے ممکنہ لائحہ عمل پر عوام کی جانب سے سخت سوالات اٹھاتے ہوئے ان کی صوبائی کارکردگی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا ایک ایسے صوبے کی شکل اختیار کرچکا ہے جہاں گورننس کے مسائل سنگین ہیں، کرپشن کے الزامات عروج پر ہیں اور نام نہاد تبدیلی کے دعوؤں کے باوجود عوام مشکلات سے دوچار ہیں۔ صوبے میں انفراسٹرکچر کی صورتحال، امن و امان اور انتظامی معاملات بھی سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔
عوام کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردی سے نمٹنے کی صلاحیت تو دور کی بات، پولیس کے ذریعے مؤثر لا اینڈ آرڈر قائم کرنے میں بھی مشکلات کا شکار ہے، لیکن اس کے باوجود صوبے کا وزیر اعلیٰ ملک بند کرنے کا لائحہ عمل دینے کی بات کر رہا ہے۔
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ملک بند کرنے کا منصوبہ پیش کرنا آسان ہے، لیکن جس صوبے کی حکومت کی ذمہ داری خود سہیل آفریدی کے پاس ہے، پہلے اسے چلانے، عوام کو سہولیات فراہم کرنے اور گورننس بہتر بنانے کا عملی منصوبہ سامنے آنا چاہیے۔
’ 13 سال سے صوبے کے وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں‘
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک طویل عرصے سے خیبرپختونخوا کے وسائل عوام کی فلاح کے بجائے کسی اور کام کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث صوبے کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوسکے۔
عوام کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جو سیاسی جماعت اور اس کی قیادت ایک صوبے کو درپیش گورننس، امن و امان، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی مسائل کا مؤثر حل پیش نہیں کرسکی، وہ ملک کو بند کرنے کا منصوبہ کس بنیاد پر پیش کررہی ہے۔
’ملک بند کرنا تو دور، اپنے لیڈروں کو اکٹھا کرنا ہی بڑا چیلنج ہے‘
تجزیہ کاروں کے مطابق ملک بند کرنا تو دور کی بات، پارٹی کے تمام مفاد پسند رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ہی قیادت کے لیے بڑا چیلنج ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ احتجاجی سیاست میں ہمیشہ عام کارکن سب سے زیادہ نقصان اٹھاتا ہے، جبکہ مشکل وقت آنے پر بعض بااثر رہنما خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ماضی کے احتجاجی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قیادت کے بعض افراد مشکل حالات میں پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور نقصان غریب کارکن کو اٹھانا پڑتا ہے۔
’ساری گیم پیسے کی ہے‘
سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے احتجاجی منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے مالی وسائل کے معاملے کو بھی اہم سوال قرار دیا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے جنید اکبر کے بیان کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں 27 ستمبر کو پہلے ہی دن پشاور سے نکلنے کے لیے 45 کروڑ روپے درکار ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔
عوام کی جانب سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ احتجاج کے لیے بھی انہی لوگوں سے پیسے مانگے جا رہے ہیں جو آخر میں سیاسی قیادت کے فیصلوں کا خمیازہ بھگتتے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ کارکنوں سے مالی وسائل طلب کرنے سے پہلے احتجاجی تحریک کے اخراجات، وسائل کے استعمال اور قیادت کی ذمہ داریوں کو واضح کیا جانا چاہیے۔
’صوبہ چلانے کی کارکردگی پہلے ثابت کی جائے‘
سہیل آفریدی کے خلاف سامنے آنے والے اس تنقیدی مؤقف کا بنیادی سوال یہی ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورننس، امن و امان، انفراسٹرکچر اور عوامی مسائل کے حوالے سے مطلوبہ نتائج نہ دینے والی حکومت ملک گیر سطح پر نظام مفلوج کرنے کی کال کس اخلاقی اور انتظامی بنیاد پر دے سکتی ہے۔
ناقدین کے مطابق سیاسی قیادت کی اولین ترجیح عوام کو بہتر حکمرانی، امن اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہونی چاہیے، جبکہ ملک گیر احتجاج یا ملک بند کرنے کی سیاست کو عوامی مسائل کے حل کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔














