شمالی قبرص کے ساحل کے قریب 270 افراد سے بھرا مسافر بردار بحری جہاز الٹنے سے 7 افراد جاں بحق، 23 لاپتا ہو گئے ہیں جبکہ 237 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔ اس المناک حادثے پر وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے ترکیہ حکومت کے ساتھ اظہار افسوس کیا ہے۔
اتوار کو یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب جہاز گیرن بندرگاہ سے ترک شہر تاشوچو کی طرف روانہ ہوا، حادثے کے بعد بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
🟠 UPDATE: Footage from inside the ferry shows passengers putting on life jackets shortly before the vessel capsized off Northern Cyprus.
At least seven people are dead, 237 have been rescued and 23 remain missing as search operations continue.
The ferry was carrying 267… pic.twitter.com/fUE6OHXd2e
— Planet Report HQ (@PlanetReportHQ) August 30, 2026
ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے وزیر اعظم انال استل کے مطابق جہاز میں مجموعی طور پر 270 افراد سوار تھے۔
انہوں نے ترک خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ‘اب تک 172 افراد کو بچا لیا گیا ہے اور باقی مسافروں کو بچانے کے لیے امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں’۔
دوسری جانب ایک مقامی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ جہاز 514 میٹر کی گہرائی میں مکمل طور پر غرق ہو چکا ہے۔
ترک ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے مناظر میں الٹے ہوئے جہاز کو پانی میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں لائف جیکٹس پہنے لوگ اس کے نارنجی رنگ کے نچلے حصے پر موجود ہیں۔
Breaking: Horrifying visuals show passengers Draining and struggling in the water as a ferry capsizes off Northern Cyprus today. pic.twitter.com/Yc9UwKUGz9
— World Updates (@Updatesofwworld) August 30, 2026
موسم صاف ہے اور متعدد کشتیاں امدادی کاموں میں حصہ لے رہی ہیں۔ نیکوسیا میں ترک سفیر علی مرات بصری نے اموات کی تصدیق کر دی ہے اور کہا ہے کہ مسافروں کو بحفاظت نکالنے کے لیے امدادی کام جاری ہے۔ تاہم جہاز الٹنے کی حتمی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔
پاکستان کا اظہارِ یکجہتی
اس المناک حادثے پر پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’بحیرہ روم میں مسافر بحری جہاز ڈوبنے کے افسوسناک واقعے پر شدید دکھ ہے۔
Deeply saddened by the tragic capsizing of a passenger ship in the Mediterranean Sea. I extend my heartfelt condolences to my dear brother President Recep Tayyip Erdoğan, the Turkish government and the bereaved families.
We pray for the swift and safe recovery of those still…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) August 30, 2026
میں اپنے پیارے بھائی صدر رجب طیب اردگان، ترک حکومت اور سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کرتا ہوں’۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستانی عوام اپنے ترک بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اسی طرح نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اپنے تعزیتی پیغام میں متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے لاپتہ افراد کی جلد اور بحفاظت بازیابی کے لیے جاری ریسکیو آپریشن کی کامیابی کی دعا کی۔
Deeply saddened by the tragic ferry accident in the Eastern Mediterranean Sea.
My heartfelt condolences to the families of those who lost their lives. Our thoughts and prayers are with all those affected and with the missing persons and their loved ones.
We stand in solidarity…
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) August 30, 2026
ترکیہ نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرادی
ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز نے کہا کہ انقرہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے لیے تمام ضروری معاونت فراہم کررہا ہے۔
شمالی قبرص، جسے بین الاقوامی سطح پر صرف ترکیہ تسلیم کرتا ہے، جزیرہ قبرص کے شمالی ایک تہائی حصے پر مشتمل ہے۔ قبرص 1974 سے منقسم ہے اور شمالی علاقے کو ترکیہ کے ساتھ باقاعدہ فضائی اور بحری روابط حاصل ہیں۔
انہوں نے ترک خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ‘اب تک 237 افراد کو بچا لیا گیا ہے اور باقی مسافروں کو بچانے کے لیے امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں’۔
دوسری جانب ایک مقامی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ جہاز 514 میٹر کی گہرائی میں مکمل طور پر غرق ہو چکا ہے۔
At least seven people died and 23 were missing after a ferry carrying around 270 passengers and crew capsized off North Cyprus, leaving survivors clinging to its overturned hull https://t.co/BvljMMFKId pic.twitter.com/c1hlWDgFAE
— Reuters (@Reuters) August 30, 2026
ترک ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے مناظر میں الٹے ہوئے جہاز کو پانی میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں لائف جیکٹس پہنے لوگ اس کے نارنجی رنگ کے نچلے حصے پر موجود ہیں۔
حادثے کے بعد ترکیہ اور شمالی قبرص کے حکام کی جانب سے امدادی کارروائیوں کو تیز کردیا گیا ہے تاکہ لاپتا افراد کا سراغ لگایا جاسکے۔
واضح رہے کہ ترک جمہوریہ شمالی قبرص (ٹی آر این سی) جزیرہ قبرص کے شمالی حصے پر مشتمل ہے، جو 1974 سے منقسم ہے۔
اس ریاست کو عالمی سطح پر صرف ترکیہ تسلیم کرتا ہے اور اس کا فضائی، سمندری اور معاشی انحصار بھی ترکیہ پر ہی ہے۔
ٹی آر این سی کی وزارتِ صحت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسپتالوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ ریسکیو کیے گئے افراد کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز نے ایکس پر تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں ہر ممکن تعاون فراہم کر رہا ہے۔
یہ سانحہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ترک صدر رجب طیب اردگان پیر کو شمالی قبرص کا اہم دورہ کرنے والے ہیں، جہاں وہ اکتوبر میں منتخب ہونے والے صدر طوفان ارحرمن سے ملاقات کریں گے۔ 2023 کے بعد ترک صدر کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔













