قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں ہونے والی آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی اموات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سرکاری اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے معیار سے متعلق اہم سوال اٹھا دیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں شاہد آفریدی نے سوال کیا کہ اگر سرکاری اسپتال اور تعلیمی ادارے واقعی اتنے ہی اچھے ہیں تو اقتدار میں بیٹھے لوگ اپنے بچوں کو وہاں کیوں نہیں بھیجتے؟
14 newborns lost their lives at PIMS. The inquiry report is out, officials have been suspended and criminal proceedings ordered. But no action can bring those innocent lives back.
If government hospitals and schools are truly good enough, why don’t those in power send their own… https://t.co/6toa9Xk7nn
— Shahid Afridi (@SAfridiOfficial) August 30, 2026
شاہد آفریدی نے کہاکہ اسلام آباد کے پمز اسپتال میں پیش آنے والے سانحے میں 14 معصوم بچے جان سے چلے گئے۔
انہوں نے کہاکہ سانحے کی انکوائری رپورٹ سامنے آچکی ہے، متعلقہ افسران کو معطل کیا جاچکا ہے جبکہ ان کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم بھی دے دیا گیا ہے۔
سابق کپتان کا کہنا تھا کہ تاہم کوئی بھی کارروائی ان معصوم جانوں کو واپس نہیں لاسکتی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے ہر شہری کو صحت اور تعلیم کے یکساں معیار کی سہولت حاصل ہونی چاہیے، اور سرکاری اداروں میں بھی وہی معیار یقینی بنایا جانا چاہیے جس کی توقع معاشرے کے ہر فرد کے لیے کی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ 26 اگست کو پمز اسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی نرسری میں ہولناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا۔ حادثے کے وقت نرسری میں 15 نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے 14 بچے جاں بحق ہوگئے جبکہ صرف ایک بچے کو زندہ بچایا جاسکا۔
سانحے کے بعد واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ عبوری تحقیقاتی رپورٹ میں اسپتال کے ہنگامی حالات سے نمٹنے اور فائر سیفٹی کے انتظامات میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق پمز میں آگ سے نمٹنے کے لیے کوئی باقاعدہ مخصوص افسر موجود نہیں تھا اور اس حوالے سے ذمہ داری اضافی طور پر ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو سونپی گئی تھی۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں جولائی کے دوران بھی آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا، تاہم اس کے بعد حفاظتی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے گئے۔
انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے پمز کے 8 افسران کو معطل کرنے اور ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی۔
کارروائی میں اسپتال کے انتظامی افسران، نیونیٹولوجی اور مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر سے متعلقہ حکام سمیت سیکیورٹی انتظامات کے ذمہ دار افراد شامل ہیں۔
پمز سانحے کے بعد اسپتالوں میں فائر سیفٹی، ہنگامی ردعمل کے نظام اور نومولود بچوں کے تحفظ کے انتظامات پر بھی ملک بھر میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔













