مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، اسحاق ڈار

پیر 10 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تاریخی معاہدہ تینوں ممالک کے برادرانہ تعلقات، مشترکہ اقدار اور امن، سلامتی و استحکام کے عزم کا مظہر ہے۔

مزید پڑھیں:مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: اسلام آباد تینوں ممالک کے پرچموں اور برقی قمقموں سے جگمگا اٹھا

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے کہا کہ 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں طے پانے والا معاہدہ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ اسٹریٹجک تعلقات میں اہم سنگ میل ہے، جس کا مقصد خطے کو درپیش بدلتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون مضبوط بنانا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں۔ اس کا مقصد بیرونی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت اور مزاحمت مضبوط بنانا، جبکہ خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ ہے۔

نائب وزیراعظم کے مطابق معاہدے کے تحت تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا، جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی دفاع کے حق سے ہم آہنگ ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان تنازعات کے پرامن حل، خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور خطے میں امن و خوشحالی کے لیے پرعزم ہے۔ مکہ معاہدہ تصادم کا ذریعہ نہیں بلکہ طاقت، یکجہتی اور باہمی احترام کے ذریعے امن کے مشترکہ عزم کا اظہار ہے۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ’مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ طے، کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا

انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دفتر خارجہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ قومی مفادات کے تحفظ اور سعودی عرب و ترکیہ کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنانے کے لیے قیادت اور وژن قابل تحسین ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp