اسٹاک مارکیٹ کے اہم شعبے منفی زون میں، انڈیکس میں 454 پوائنٹس کی کمی

پیر 31 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں انڈیکس نے کاروبار کے ابتدائی منٹوں میں 400 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی۔

صبح 9 بج کر 40 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 454.47 پوائنٹس یعنی 0.26 فیصد کمی کے بعد 177,242.03 پوائنٹس پر موجود تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟

کاروبار کے دوران اہم شعبوں میں فروخت کا رجحان غالب رہا، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے حصص شامل تھے۔

حبیب بینک، میزان بینک، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، ماری انرجیز، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، پاکستان اسٹیٹ آئل، مسلم کمرشل بینک اور حبکو جیسے انڈیکس پر نمایاں اثر رکھنے والے اسٹاکس منفی زون میں کاروبار کرتے رہے۔

گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار محدود دائرے میں رہا تھا، اس دوران کے ایس ای 100 انڈیکس 530 پوائنٹس یعنی 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 177,696.52 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری تعطل اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط رہے۔

عالمی منڈیوں میں بھی مندی

دوسری جانب عالمی سطح پر بھی پیر کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھی گئی، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان تازہ جھڑپ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جبکہ سرمایہ کاروں کی جانب سے امریکی شرح سود میں اضافے کے امکانات بڑھنے کے بعد بانڈ ییلڈز بھی بلند رہیں۔

اتوار کو امریکی فورسز کی جانب سے ایران کے جزیرے لارک پر موجود دو لانچرز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد برینٹ خام تیل کے مستقبل کے معاہدوں کی قیمت 1.4 فیصد بڑھ کر 89.38 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

مارکیٹ میں ستمبر میں امریکی شرح سود میں اضافے کے امکان کو بڑھا کر 57 فیصد تصور کیا جانے لگا، جس کے باعث قلیل مدتی امریکی ٹریژری ییلڈز میں نمایاں اضافہ ہوا۔

شرح سود میں ممکنہ اضافے کے حوالے سے جمعہ کو جاری ہونے والی اگست کی روزگار رپورٹ اور 11 ستمبر کو آنے والے صارف قیمتوں کے اعدادوشمار اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگست میں روزگار میں 58 ہزار اضافے کی توقع ہے، جبکہ جولائی میں 23 ہزار ملازمتوں کی حیران کن کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: لائیو اسٹاک اور زراعت پر توجہ دے کر ایک سال میں معیشت بہتر کی جا سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف

بے روزگاری کی شرح 4.1 فیصد پر برقرار رہنے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔

بلند بانڈ ییلڈز اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث جاپان کے نکی انڈیکس میں 2.1 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ میں 2.4 فیصد کمی ہوئی۔

جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی کا وسیع انڈیکس بھی 0.7 فیصد نیچے آگیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp