سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے اعتراف کیا ہے کہ امریکی طلبہ میں اسرائیل کی ساکھ منفی ہو چکی ہے اور اسرائیل کا نام اب ’نسل کشی‘ سے جوڑا جاتا ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں نفتالی بینیٹ نے کہا کہ اسرائیل کے قیام کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ امریکی عوام میں اسرائیل ایک منفی برانڈ کے طور پر سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کو مٹانے کے لیے نسل کشی کر رہا ہے، اقوام متحدہ
آل اِن پلیٹ فارم پر ’ایتائی سیگل پوڈکاسٹ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بینیٹ نے کہا کہ اگر کسی امریکی طالب علم سے پوچھا جائے کہ اسرائیل کا نام سن کر ذہن میں کیا آتا ہے تو جواب ملتا ہے کہ ’نسل کشی‘، یہی موجودہ صورتحال ہے۔
مختلف ممالک کے ساتھ مخصوص علامتوں اور تصورات کے جڑنے کی مثال دیتے ہوئے سابق اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اٹلی کا نام لیا جائے تو پاستا اور اسپگیٹی ذہن میں آتی ہے، جبکہ اسرائیل کا نام لینے پر ’بچوں کے قاتل‘ کا تصور سامنے آتا ہے۔
Former Israeli Prime Minister Naftali Bennett said Israel has, for the first time since its establishment, become a negative symbol in the eyes of the American public.
He said that if American students are asked what comes to mind when they hear Israel, the answer is… pic.twitter.com/0wRz3yR7OH
— Quds News Network (@QudsNen) August 31, 2026
تاہم نفتالی بینیٹ نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ظاہر ہے یہ تاثر درست اور منصفانہ نہیں، لیکن موجودہ صورتحال یہی ہے۔
انہوں نے امریکی رائے عامہ میں اسرائیل کے بارے میں بڑھتی ہوئی منفی سوچ کا ایک حصہ قطر کے امریکا میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو بھی قرار دیا۔
بینیٹ کے مطابق اسرائیل نے 25 سال تک قطر کو امریکا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی اجازت دی۔
مزید پڑھیں: گریٹا تھنبرگ کے اسرائیلی حراست سے یونان پہنچنے پر پرتپاک استقبال، اسرائیلی پر نسل کشی کا الزام لگا دیا
بینیٹ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں اسرائیلی جنگ اور بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر اسرائیل کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
گزشتہ اکتوبر میں امریکا کی حمایت سے غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہوا تھا، تاہم اس کے بعد بھی جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے دوران غزہ میں 1300 سے زائد فلسطینی جاں بحق اور 4300 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: غزہ میں نسل کشی کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں، ٹرمپ کی قریبی اتحادی بھی اسرائیل کیخلاف بول پڑیں
دوسری جانب تباہ شدہ عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کے ملبے سے سینکڑوں فلسطینیوں کی لاشیں بھی نکالی جا چکی ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے اب تک 73 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
ادھر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں 2024 سے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے مطلوب قرار دیا گیا ہے۔












