ٹرمپ کی کارکردگی: 59 فیصد امریکیوں نے عدم اطمینان ظاہر کردیا

بدھ 15 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی کے حوالے سے ایک تازہ عوامی سروے میں ان کی مقبولیت میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ سروے کے مطابق 59 فیصد امریکی شہری صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے ناخوش ہیں، جبکہ صرف 37 فیصد افراد نے ان کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

یہ رائے شماری 10 سے 13 جولائی کے دوران کی گئی، جس میں مجموعی طور پر 1616 افراد نے حصہ لیا۔ سروے کے نتائج کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات اور پالیسیوں پر عوامی اعتماد میں کمی آئی ہے۔

سروے میں شامل 54 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد عالمی سطح پر امریکا کے اثر و رسوخ میں کمی آئی ہے، جبکہ متعدد افراد نے خارجہ پالیسی اور عالمی معاملات سے متعلق بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ مقبولیت کی سب سے نچلی سطح پر جاگرے، وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکنز کو بڑا دھچکا

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کا رجحان عالمی کشیدگی اور جنگی حالات کے باوجود برقرار ہے۔ عوامی رائے میں سب سے زیادہ تشویش معیشت، مہنگائی، روزگار اور امریکا کے عالمی کردار سے متعلق امور پر ظاہر کی گئی۔

ڈیموکریٹس کے لیے سیاسی موقع

سیاسی ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ حالیہ سروے میں ڈیموکریٹس کو ریپبلکن پارٹی پر 4 فیصد برتری حاصل رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی رجحانات میں تبدیلی آ رہی ہے۔

اگر یہی رجحان برقرار رہا تو ڈیموکریٹس کانگریس کے انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو سخت مقابلہ دے سکتے ہیں۔

دیگر سرویز میں بھی ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی

امریکی سیاسی سروے کے معروف ادارے ریئل کلیئر پولیٹکس کے مطابق صدر ٹرمپ کی موجودہ اوسط مقبولیت بھی دباؤ کا شکار ہے۔ ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 41 فیصد امریکی شہری ان کی کارکردگی سے مطمئن ہیں، جبکہ 56.4 فیصد نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت میں اتار چڑھاؤ گزشتہ ایک سال سے جاری ہے، تاہم گزشتہ چند ماہ کے دوران اس میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

امریکی صدور کی تاریخی مقبولیت

کارنیل یونیورسٹی کے روپر سینٹر فار پبلک اوپینین ریسرچ کے مطابق امریکی تاریخ میں کسی صدر کی سب سے کم مقبولیت سابق صدر ہیری ٹرومین کو درپیش آئی تھی، جن کی مقبولیت کی شرح فروری 1952 میں صرف 22 فیصد تک رہ  گئی تھی۔

وائٹ ہاؤس کا دفاع

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کی کارکردگی پر ہونے والے جائزے کو مسترد کرتے ہوئے ان کے اقدامات کا دفاع کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ اور امریکا پر عالمی اعتماد میں ریکارڈ کمی، نئی سروے رپورٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس انگل نے ’نیوز ویک‘ کو ای میل کے ذریعے بتایا کہ امریکی تاریخ میں کسی بھی دوسرے صدر نے عوام کے لیے وہ کام نہیں کیے جو صدر ٹرمپ نے کیے ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، معیشت کو مضبوط بنانے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری 2025 میں دوسری مرتبہ امریکی صدر کا منصب سنبھالا تھا۔ ان کی دوسری مدتِ صدارت میں امیگریشن، تجارتی پالیسی، حکومتی اخراجات، خارجہ تعلقات اور معاشی فیصلے امریکی سیاست میں اہم موضوعات بنے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: اسلام آباد تینوں ممالک کے پرچموں اور برقی قمقموں سے جگمگا اٹھا

حکومت کا بجلی کی 3 بڑی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ

جماعت اسلامی نے 9 اگست کا احتجاج مؤخر کردیا، پیٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنوں کی نئی تاریخ کا اعلان

اوپن اے آئی کے نئے ماڈل ’ایسٹرا‘ میں خطرناک سیکیورٹی خدشات کا انکشاف، ڈیولپنگ کام عارضی معطل

میر رضا علی کیس: پولیس تفتیش کے بجائے خاندان کو ہراساں کررہی ہے، وکیل نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا

ویڈیو

کشمیری پاکستان کے مالک ہیں، مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت دلائیں گے، رانا ثنا اللہ کا ضلع باغ میں جلسہ عام سے خطاب

وزیراعظم شہباز شریف مدینہ منورہ سے روانہ، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد مسجد نبویؐ میں حاضری

پی ٹی آئی اسلام آباد مارچ کے اعلان پر خیبر پختونخوا کے اراکین کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

پرانی کتابوں کا اتوار بازار

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر