امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کانگریس سے 87.6 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز کی منظوری طلب کرلی ہے، جن میں سے بیشتر رقم ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی سے متعلق فوری ضروریات کے لیے مختص کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں:ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کی تو مذاکرات ختم ہو جائیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
وائٹ ہاؤس کے مطابق 67 ارب ڈالر محکمہ دفاع کو دیے جائیں گے، جن میں اسلحہ، آپریشنل اخراجات اور خفیہ پروگراموں کے لیے رقوم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی کسانوں کی مدد اور افریقہ میں ایبولا سے نمٹنے کے لیے بھی فنڈز رکھے گئے ہیں۔
TRUMP: We froze Iran’s money. It’s not our money, it’s their money.
If we didn’t give it back, nobody would ever invest in the dollar again. pic.twitter.com/DpgjCWUwir
— Kashif Raza (@simplykashif) June 18, 2026
یہ درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کانگریس نے ایک قرارداد منظور کرکے ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ جنگ کی عوامی مقبولیت میں کمی اور قریب آتے وسط مدتی انتخابات کے باعث فنڈز کی منظوری آسان دکھائی نہیں دیتی۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ اور امریکا پر عالمی اعتماد میں ریکارڈ کمی، نئی سروے رپورٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
دوسری جانب ٹرمپ نے جنگی اختیارات محدود کرنے سے متعلق قرارداد پر شدید تنقید کی ہے، جبکہ بعض ریپبلکن سینیٹرز بھی جنگ اور امن منصوبے پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ پینٹاگون کے مطابق اب تک ایران جنگ پر قریباً 29 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔














