امریکی تحقیقی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کے تازہ عالمی سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت پر دنیا بھر میں اعتماد بدستور کمزور ہے، جبکہ امریکا کو ایک قابلِ اعتماد عالمی شراکت دار سمجھنے والوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔
36 ممالک میں کیے گئے سروے کے مطابق عالمی امن، خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی معاملات پر ٹرمپ کی پالیسیوں کو اکثریت کی ناپسندیدگی کا سامنا ہے۔
سروے فروری سے مئی 2026 کے درمیان دنیا کے 36 ممالک میں 42 ہزار 151 بالغ افراد سے کیا گیا۔ یہ وہ عرصہ تھا جب ایک جانب چین اور امریکا کے درمیان جغرافیائی سیاسی رقابت شدت اختیار کر رہی تھی، جبکہ دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائی بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی۔
سروے کے نتائج کے مطابق اوسطاً صرف 23 فیصد افراد نے کہا کہ انہیں عالمی معاملات میں درست فیصلے کرنے کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ پر اعتماد ہے، جبکہ تقریباً دو تہائی شرکاء نے ان پر کم یا بالکل اعتماد نہ ہونے کا اظہار کیا۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 24 ممالک میں سے 16 میں ٹرمپ پر اعتماد میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ کسی بھی ملک میں اس حوالے سے بہتری نہیں دیکھی گئی۔
امریکا کے بارے میں عالمی رائے بھی زیادہ مثبت نہیں رہی۔ سروے میں شامل 36 ممالک میں صرف 37 فیصد افراد نے امریکا کے بارے میں موافق رائے دی، جبکہ 57 فیصد نے منفی تاثر کا اظہار کیا۔ انڈونیشیا، اٹلی، نائجیریا، جنوبی افریقا، جنوبی کوریا اور ترکی سمیت کئی ممالک میں امریکا کی مقبولیت میں دوہرے ہندسوں کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر امریکا کے کردار کے بارے میں بھی اعتماد کمزور پڑ رہا ہے۔ صرف 35 فیصد افراد کا خیال تھا کہ امریکا دنیا میں امن اور استحکام کے فروغ میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ صرف 32 فیصد نے کہا کہ واشنگٹن اپنی خارجہ پالیسی بناتے وقت دیگر ممالک کے مفادات کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے امریکی یہودیوں کی اکثریت غزہ جنگ کی خلاف ہوگئی، اسرائیل کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیدیا
امریکی جمہوریت کے حوالے سے بھی عالمی تاثر منفی ہوا ہے۔ سروے میں 39 فیصد افراد نے کہا کہ امریکی حکومت اپنے شہریوں کی شخصی آزادیوں کا احترام کرتی ہے، جبکہ 56 فیصد اس رائے سے متفق نہیں تھے۔ جن 13 ممالک میں یہ سوال 2021 میں بھی پوچھا گیا تھا، ان میں سے 12 میں امریکا کے بارے میں مثبت رائے میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
امریکا کے قریبی اتحادی ممالک میں بھی اس پر اعتماد کم ہوا ہے۔ کینیڈا میں 2022 میں 83 فیصد افراد امریکا کو قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھتے تھے، لیکن 2026 میں یہ شرح کم ہو کر 35 فیصد رہ گئی۔ آسٹریلیا، جاپان اور سنگاپور سمیت ایشیا پیسیفک خطے کے اہم اتحادی ممالک میں بھی اسی نوعیت کی کمی سامنے آئی۔ آسٹریلیا میں 2023 کے بعد سے امریکا کو عالمی امن و استحکام میں مثبت کردار ادا کرنے والا ملک سمجھنے والوں کی تعداد میں 30 پوائنٹس سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔
فلپائن اس رجحان سے نمایاں طور پر مختلف رہا۔ وہاں 77 فیصد افراد نے امریکا کو عالمی امن و استحکام میں معاون قرار دیا، جبکہ یہی وہ ملک تھا جہاں ٹرمپ کو سب سے زیادہ حمایت بھی حاصل رہی۔
سروے کے مطابق ٹرمپ پر سب سے زیادہ اعتماد فلپائن، اسرائیل، نائجیریا، کینیا اور گھانا میں دیکھا گیا۔ نائجیریا میں مذہبی بنیادوں پر واضح فرق سامنے آیا، جہاں 87 فیصد مسیحیوں نے ٹرمپ پر اعتماد کا اظہار کیا، جبکہ مسلمانوں میں یہ شرح صرف 33 فیصد رہی۔
اس کے برعکس ترکی اور مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں مقیم فلسطینیوں کے درمیان ٹرمپ پر اعتماد انتہائی کم، یعنی سنگل ڈیجٹ سطح تک محدود رہا۔
سیاسی نظریات کے لحاظ سے بھی ٹرمپ کے بارے میں آراء مختلف رہیں۔ 27 ممالک میں سے 18 میں دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے افراد نے بائیں بازو کے افراد کے مقابلے میں ٹرمپ پر زیادہ اعتماد ظاہر کیا۔ یورپ کی دائیں بازو کی مقبول جماعتوں کے حامی بھی ان کے حامیوں میں شامل تھے، تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں ان حلقوں میں بھی حمایت میں کمی دیکھی گئی۔
یہ بھی پڑھیے ایران کے ساتھ جنگ نے امریکا کو کیا نقصان پہنچایا، کیا دفاعی ساکھ، معیشت اور ٹرمپ کی مقبولیت کم ہوگئی؟
سروے میں بین الاقوامی معاملات پر ٹرمپ کی کارکردگی کو بھی وسیع پیمانے پر تنقید کا سامنا رہا۔ 74 فیصد شرکاء نے ایران کے حوالے سے ان کی پالیسی کو ناپسند کیا۔ اسی طرح تجارتی محصولات (ٹیرف)، روس یوکرین جنگ، غزہ کی صورتحال اور دیگر اہم خارجہ پالیسی معاملات پر بھی اکثریت نے ان کی حکمت عملی کو مسترد کیا۔
البتہ اسرائیل اس معاملے میں ایک استثنا رہا، جہاں ایران کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسی کو 73 فیصد افراد کی حمایت حاصل تھی۔
انسانی امداد اور امیگریشن کے معاملات میں بعض ممالک میں ٹرمپ کو نسبتاً بہتر درجہ بندی ملی، تاہم مجموعی طور پر اکثریت نے ان کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔
سابق امریکی صدور کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو فرانس، جرمنی، اسپین اور برطانیہ میں ٹرمپ کی مقبولیت اب بھی کم سطح پر ہے، اگرچہ یہ ان کے پہلے دورِ صدارت کے اختتام کے مقابلے میں قدرے بہتر رہی۔ ان کی درجہ بندی سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے آخری دورِ حکومت کے برابر یا اس سے کچھ بہتر رہی، تاہم سابق صدر باراک اوباما کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہی، جنہیں عالمی سطح پر مسلسل زیادہ پذیرائی حاصل رہی تھی۔














