جرمنی میں پاور پلانٹ کے ایک اہم مرکز کو نامعلوم حملہ آوروں نے مبینہ طور پر راکٹوں سے نشانہ بنایا، واقعے کے بعد حکام نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
جرمن خبر ایجنسی کے مطابق واقعہ منگل کی صبح جنوبی برانڈن برگ میں یانشوالدے بجلی گھر کے قریب ٹرنوو پریلاک بجلی کے مرکز میں پیش آیا، جو دارالحکومت برلن سے تقریباً 160 کلومیٹر دور ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جرمنی نے خفیہ اداروں کو وسیع اختیارات دینے کا فیصلہ کرلیا، کن ممالک سے خطرہ ہے؟
رپورٹ کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے بجلی کے مرکز پر ایک سے زیادہ مرتبہ حملہ کیا، جبکہ علاقے سے دھماکا خیز مواد سے بھرے کئی آلات بھی برآمد ہوئے، جنہیں بم ناکارہ بنانے والے ماہرین نے بروقت ناکارہ بنا دیا۔
جرمن حکام واقعے کو محض توڑ پھوڑ کے بجائے توانائی کے اہم بنیادی ڈھانچے پر دانستہ حملے کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق حملے کا ممکنہ مقصد قریب واقع یانشوالدے بجلی گھر سے فراہم ہونے والی بجلی کی ترسیل میں خلل ڈالنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جرمنی: نومنتخب خاتون میئر چاقو کے وار سے شدید زخمی
حملے کے باوجود جرمنی میں بجلی کی فراہمی معطل نہیں ہوئی، تاہم بجلی کی ترسیلی نظام کی متعدد لائنیں متاثر ہوئیں۔ بجلی کی ترسیل کے نظام کے منتظم ادارے کے مطابق متاثرہ لائنوں کو فوری طور پر بحال کر دیا گیا اور بجلی کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔
ادارے کے ترجمان نے کہا کہ وہ صورتحال کی وضاحت کے لیے متعلقہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔
حکام نے علاقے کے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ مشتبہ افراد یا کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔














