فنونِ لطیفہ اور کلاسیکی رقص کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کرنے والی معروف کلاسیکی رقاصہ اور استاد اندو مٹھا 97 برس کی عمر میں آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں انتقال کر گئیں۔
ان کے انتقال کے ساتھ فنونِ لطیفہ کی دنیا ایک ایسی شخصیت سے محروم ہوگئی جس کی خدمات جغرافیائی حدود سے کہیں آگے تک پھیلی ہوئی تھیں۔
اندو متھا 1929 میں لاہور میں اندو چٹرجی کے نام سے ایک بنگالی برہمن خاندان میں پیدا ہوئیں، جو بعد ازاں عیسائیت اختیار کر چکا تھا۔
The twilight has come for Indu Chatterjee Mitha at 97. A philosopher, dancer, teacher, writer and above all, a peerless cultural icon; born in Lahore, she carried Bharatanatyam across borders and kept its flame gloriously alive in Isbd for over 50 years.@zakiaalibaig pic.twitter.com/0Wavo4ZU8T
— Cheest-Haq (@Cheesthaq1) September 1, 2026
قیامِ پاکستان کے وقت ان کا خاندان دہلی منتقل ہوگیا، جہاں انہوں نے دہلی یونیورسٹی سے فلسفے میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
اسی دوران انہوں نے جنوبی بھارت کی ریاست تامل ناڈو سے تعلق رکھنے والے قدیم کلاسیکی رقص بھرت ناٹیم کی تربیت بھی حاصل کی۔
1951 میں کیپٹن ابوبکر عثمان مٹھا سے شادی کے بعد وہ پاکستان واپس آگئیں، ان کے شوہر بعد میں پاک فوج میں میجر جنرل کے عہدے تک پہنچے اور ہلال جرات بھی حاصل کیا۔

شوہر کی ملازمت کے باعث اندو مِتھا نے پاکستان کے مختلف علاقوں کا سفر کیا اور جہاں بھی گئیں، کلاسیکی رقص پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اسے سکھانے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔
انہوں نے لاہور گرامر اسکول میں رقص کی تدریس کی اور بعدازاں اپنی اکیڈمی مضمونِ شوق قائم کی، جہاں انہوں نے رقص سیکھنے کے خواہش مند بے شمار نوجوانوں کی تربیت کی۔
اندو مٹھا نے بھرت ناٹیم کو روایتی حدود سے نکال کر نئے موضوعات سے جوڑا، انہوں نے اردو شاعری اور موسیقی کو کلاسیکی رقص کے ساتھ ہم آہنگ کیا اور اس میں سیکولر اور نسوانی موضوعات بھی شامل کیے۔

ان کی زندگی اور فن پر ان کے شاگردوں نے ’ہاؤ شی مووز‘ کے نام سے ایک دستاویزی فلم بھی بنائی، جس میں پاکستان کے کلاسیکی رقص اور موسیقی کے ورثے کو اجاگر کیا گیا۔
فنونِ لطیفہ کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے 2020 میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا تھا۔














