آزاد کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں عوامی حقوق اور مطالبات کی آڑ میں جاری احتجاجی تحاریک کے پسِ پردہ کارفرما مقاصد کا پول کھل گیا ہے۔ گراؤنڈ پر موجود صورتحال اور دھرنے کے اسٹیج سے کی جانے والی تقاریر نے ایکشن کمیٹی کا اصل چہرہ اور نظریاتی تخریب کاری کا ایجنڈا شواہد کے ساتھ واضح کر دیا ہے۔
راولاکوٹ میں ایکشن کمیٹی کی ہٹ دھرمی کے باعث راستوں کی بندش، آمدورفت میں رکاوٹیں اور کاروبار کی معطلی سے عام شہریوں کی زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ دکاندار، دیہاڑی دار مزدور، سرکاری و نجی ملازمین، طلبہ اور مریض اس بندش کا سب سے بڑا شکار بن رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جس عوام کے حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کیا جا رہا تھا، آج اسی کو مفلوج کر کے یرغمال بنا لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے سردار امان کے بیان پر شدید ردعمل، ایکشن کمیٹی اور بھارت سے مبینہ روابط کے الزامات
تجزیہ کاروں اور ماہرینِ امورِ کشمیر کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی نے ابتدا میں عوامی و معاشی مسائل کا نعرہ لگا کر شہریوں کی ہمدردیاں حاصل کیں، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ان کی اصل توجہ عوامی حقوق کے بجائے ریاست پاکستان کے خلاف زہر اگلنے پر مرکوز ہو چکی ہے۔ اس نظریاتی تخریب کاری کے کھلے عام مظاہرے کے بعد بیدار مغز شہریوں نے ایکشن کمیٹی اور اس کی قیادت سے دھڑا دھڑ علیحدگی اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔
سیاسی و شہری حلقوں میں یہ سوال بھی شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ ایک طرف تو ایکشن کمیٹی کا اسٹیج ریاست پاکستان کے خلاف تقاریر کے لیے استعمال ہو رہا ہے، مگر دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور غیر قانونی قبضے کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولا جاتا۔
یہ بھی پڑھیے مظفرآباد: ’ تحریک ریاست کو انتشار کی طرف لے جارہی ہے‘،جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے اہم رہنما کی علیحدگی
ماہرین نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ ہندوستانی مظالم پر پراسرار خاموشی اور پاک ریاست پر تنقید اس تحریک کی اصل ڈائریکشن اور پسِ پردہ عناصر پر گہرے سوالات کھڑے کرتی ہے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر میں امن و امان برقرار رکھنے اور صورتحال کو کنٹرول میں لانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ تاہم، شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ احتجاج کے نام پر عوام کے بنیادی حقوق چھیننے اور نظریاتی تخریب کاری پھیلانے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ عام آدمی کی زندگی معمول پر آ سکے۔














