مظفرآباد سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور کمیٹی رکن ملک عادل نے تنظیم سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیٹی کا پلیٹ فارم اب متنازع ہوچکا ہے اور بعض عناصر تحریک کو انتشار اور تشدد کی طرف لے جا رہے ہیں۔
ملک عادل نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ریاست میں جاری تحریک کے دوران وہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے شانہ بشانہ کھڑے رہے، تاہم تحریک کے تشدد اور انتشار کی جانب جانے کے باعث وہ اب خود کو اس سے الگ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بطور کونسلر اپنے علاقے اور وارڈ کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، تاہم ریاست مخالف یا فورسز مخالف کسی بیانیے کو قبول نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا جمہوریت پر حملہ، عوامی مینڈیٹ سے خوف کیوں؟
انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم پر موجود بعض لوگ تحریک کو انتشار کی طرف لے جا رہے ہیں، جس میں عوام کی بقا نہیں بلکہ تباہی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے عناصر اور کسی بھی ایسی تحریک سے دور رہیں جو ریاست مخالف، فورسز مخالف یا تشدد پر مبنی ہو۔
ملک عادل نے واضح کیا کہ وہ پرامن تحریکوں اور عوام کے بنیادی حقوق کی جدوجہد کی حمایت کرتے رہیں گے، تاہم تشدد یا انتشار کی کسی تحریک کا حصہ نہیں بن سکتے۔
ملک عادل نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے پورے ہوش و حواس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے موجودہ پلیٹ فارم سے لاتعلقی کا اعلان کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ملک عادل، شوکت نواز میر کی گرفتاری کے بعد کور کمیٹی میں اہم ذمہ داری سنبھالنے والے رہنماؤں میں شامل تھے۔













