فیک ویڈیو کیس: عظمیٰ بخاری اور فلک جاوید کے وکیل میاں اشفاق کے درمیان تلخ کلامی

بدھ 2 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فیک ویڈیو کیس میں پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے ضلع کچہری لاہور پہنچ گئیں، تاہم کیس کی مرکزی ملزمہ فلک جاوید عدالت میں پیش نہ ہوسکیں۔

عظمیٰ بخاری نے جج نعیم وٹو کے روبرو پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کرایا، انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس کیس میں ملزمہ نہیں بلکہ شکایت کنندہ ہیں اور ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

وزیر اطلاعات پنجاب کا کہنا تھا کہ ان کی ایک جعلی ویڈیو بنا کر وائرل کی گئی، وہ اس معاملے کے باعث جس کرب سے گزری ہیں، اسے بیان نہیں کرسکتیں۔

یہ بھی پڑھیں: عظمیٰ بخاری فیک ویڈیو کیس: 4 ملزمان کے ریڈ وارنٹ جاری، جائیدادیں منجمد ہونگی

اس موقع پر جج نعیم وٹو نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے لیے ایک عورت کا احترام بہت ضروری ہے اور عدالتوں کے فیصلے ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس طرح کے مقدمات کو کس طرح ڈیل کرتی ہیں۔

جج نے کہا کہ اس کیس میں تاخیر عدالتوں کی وجہ سے نہیں ہوئی، جبکہ تنقید بھی عدالتوں نے برداشت کی ہے۔

دورانِ سماعت فلک جاوید کے وکیل میاں علی اشفاق اور عظمیٰ بخاری کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔ عظمیٰ بخاری نے وکیل سے کہا کہ آپ ڈکٹیٹر نہ بنیں، آواز نیچی کرکے بات کریں۔

عدالت نے فلک جاوید کو پیش نہ کیے جانے پر جیل حکام کو انہیں 20 منٹ کے اندر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

دوران سماعت عظمیٰ بخاری  نے کہا کہ ایک یوٹیوبر نے ٹوئٹ کیا کہ ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے ہیں، عدالت اس سے پوچھے کہ وارنٹ کب جاری ہوئے۔

عظمیٰ بخاری نے عدالت میں موجود یوٹیوبر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پوچھا جائے کہ کیا ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ نے صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کی فیک ویڈیو کیس میں کیا حکم دیا؟

اس پر یوٹیوبر نے کمرہ عدالت میں عظمیٰ بخاری سے معذرت کرلی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک عورت کی عزت کا معاملہ ہے اور یہ کوئی عام سول کیس نہیں تھا۔

ان کے مطابق انہیں سکیورٹی خدشات بھی لاحق ہیں، اسی لیے انہوں نے عدالت سے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرنے کی استدعا کی تھی۔

مزید پڑھیں: عظمیٰ بخاری فیک ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت، جج کے اہم ریمارکس

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ فلک جاوید کے والدین کا وہ احترام کرتی ہیں، تاہم انہیں افسوس ہے کہ ان کے بارے میں کس طرح کی زبان استعمال کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اسی طرح معاملات چلنے ہیں تو پھر عدالتوں کو بند کردینا چاہیے، اگر ایک وزیر کے ساتھ ایسا ہورہا ہے تو عام لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ بہت سے لوگ ان کے ساتھ عدالت آنا چاہتے تھے، تاہم انہوں نے انہیں منع کیا، کیونکہ وہ نہیں چاہتیں کہ دونوں جانب کے لوگ آمنے سامنے آئیں اور کوئی بدمزگی ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp