27 ستمبر کے احتجاج سے متعلق سہیل آفریدی نے پارٹی اراکین سے کوئی مشاورت نہیں کی، حاجی فضل الٰہی

جمعرات 3 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاور سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے رکن خیبر پختونخوا اسمبلی حاجی فضل الٰہی نے کہا ہے کہ 27 ستمبر اسلام آباد مارچ کے لیے قیادت مشاورت نہیں کررہی بلکہ فنڈز، چندے اور دیگر معاملات پر احکامات جاری کیے جا رہے ہیں۔

پشاور میں وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے حاجی فضل الٰہی نے صوبے کی صورت حال، لانگ مارچ کی تیاریوں اور دیگر امور پر کھل کر بات کی۔

مزید پڑھیں: عمران خان کی اسپتال منتقلی کے فیصلے پر پی ٹی آئی نے جلدی مٹھائی کھالی : طلال چوہدری

’فنڈز جمع کرنے کے بجائے اراکین خود اپنے اپنے کارکنوں کا خیال رکھیں تو بہتر ہے‘

حاجی فضل الٰہی نے 27 ستمبر اسلام آباد لانگ مارچ کی تیاریوں پر بات کرتے ہوئے کہاکہ پارٹی اور کارکنوں کی تیاریاں جاری ہیں اور عمران خان کے لیے لوگ نکلیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کارکنان پریشان ہیں اور چاہتے ہیں کہ عمران خان جیل سے باہر آئیں، اور اس کے لیے وہ جانی یا مالی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

انہوں نے صوبائی صدر جنید اکبر کی جانب سے خطیر فنڈز جمع کرنے کے مطالبے پر بھی بات کی اور کہاکہ عمران خان کے لیے وہ ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم، ساتھ ہی انہوں نے فنڈز جمع کرنے پر اعتراض کیا اور کہاکہ اتنے بڑے مارچ میں تمام انتظامات کیسے مینج کیے جائیں گے۔

’مارچ کے دوران کارکنان کے لیے ٹرانسپورٹ، پانی اور کھانے کا انتظام ہونا چاہیے۔ اگر پارٹی مجموعی طور پر سب کچھ کرےگی تو انتظام کرنا بہت مشکل ہوگا۔‘

انہوں نے کہاکہ سب سے فنڈز لینے کے بجائے متعلقہ رکن اسمبلی یا ضلعی قیادت کو کارکنوں کی ذمہ داری سونپی جائے تو بہتر طریقے سے انتظام ہو سکتا ہے۔

’ہم اتنی بڑی رقم جمع کرکے کون سا کارکنوں کو فائیو اسٹار کا کھانا کھلا رہے ہیں؟‘

’قربانی ہمیشہ سے خیبر پختونخوا کے ورکرز ہی دیتے آئے ہیں‘

حاجی فضل الٰہی نے کہاکہ پی ٹی آئی کے جلسوں اور لانگ مارچ کی تاریخ دیکھی جائے تو قربانی ہمیشہ پختونوں نے دی ہے۔ سخت مشکلات کے باوجود ہر بار خیبرپختونخوا سے لوگ نکلے ہیں اور اسلام آباد ہو یا لاہور، وہاں گئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اس بار بھی خیبرپختونخوا کے کارکنان نکلیں گے اور بڑی تعداد میں نکلیں گے۔

فضل الٰہی نے کہاکہ انہیں نہیں لگتا کہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے کوئی نکلے گا۔

’آپ خود دیکھیں گے، اگر پانچ ہزار لوگ بھی نکلے نا تو بڑی بات ہوگی۔‘

انہوں نے دیگر صوبوں میں کارکنان اور قیادت پر سختیوں کا بھی ذکر کیا اور کہاکہ دیگر صوبوں میں حکومت احتجاج کرنے نہیں دے رہی اور خوف کا ماحول ہے۔

’اس دن دیگر تمام صوبے راستے بند کریں گے، کسی کو نکلنے نہیں دیں گے، اور نتیجہ کوئی نہیں نکل سکے گا۔‘

’مشاورت نہ کرنے کا شکوہ، صرف حکم صادر کرتے ہیں‘

حاجی فضل الٰہی نے 27 ستمبر لانگ مارچ کے حوالے سے پارٹی کی مرکزی قیادت اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے مشاورت نہ کرنے کا بھی شکوہ کیا۔

انہوں نے کہاکہ ابھی اراکین سے کوئی مشاورت نہیں ہوئی اور کوئی پوچھنے کی زحمت نہیں کر رہا۔

’وزیراعلیٰ ہاؤس بلایا گیا تھا۔ وہاں بھی فنڈز اور دیگر معاملات کے حوالے سے حکم صادر کیا گیا، پوچھا نہیں گیا کہ کیا کریں گے۔‘

انہوں نے بتایا کہ بغیر مشاورت اور منصوبہ بندی کے نکلنے کے نقصانات زیادہ ہیں اور لانگ مارچ کے لیے ہر سطح پر مشاورت انتہائی ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کارکنان اور قیادت عمران خان کی رہائی کے لیے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔

’عمران خان کی رہائی کا واحد حل، سب سے حلف لیا جائے‘

فضل الٰہی نے اعتراف کیاکہ ماضی میں کئی مارچ اور احتجاج ہوئے، لیکن ان کا کچھ خاص فائدہ نہیں ہوا اور کارکنوں کو مایوس لوٹنا پڑا۔

انہوں نے کہاکہ سب چاہتے ہیں کہ عمران خان کی رہائی ہو، اور پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم کرنے اور عمران خان کی رہائی کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہییں۔

مزید پڑھیں: سہیل آفریدی کی 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کی کال، پی ٹی آئی میں اختلافات نمایاں

پی ٹی آئی رکن نے کہا کہ انہوں نے عمران خان کی رہائی کے لیے ایک کنونشن بلانے کا مشورہ دیا ہے، جس میں مرکزی چیئرمین سے لے کر کارکن تک سب حلف اٹھائیں گے۔ اس کے بعد میدان میں آئیں گے تو عمران خان خود بخود رہا ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ خانپور میں پنجاب کے بارڈر کے ساتھ ہی کنونشن ہونا چاہیے، جس کے بعد وہاں سے تحریک کا آغاز کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp