خلا میں چین اور امریکا کے درمیان عسکری مسابقت میں تیزی آ گئی ہے، جہاں دونوں ممالک ایسے جدید خلائی نظام تیار کر رہے ہیں جو مستقبل میں دشمن کے سیٹلائٹس کی نگرانی، تعاقب، مداخلت اور ممکنہ طور پر تباہی کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی دستاویزات، خلائی نگرانی کے اعداد و شمار اور موجودہ و سابق فوجی حکام سے گفتگو پر مبنی جائزے کے مطابق جون میں ایک خفیہ چینی بغیر پائلٹ خلائی جہاز نے زمین سے سینکڑوں میل بلندی پر ایک چھوٹا سیٹلائٹ مدار میں چھوڑا۔
یہ بھی پڑھیں: خلا میں عسکری کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، فرانسیسی فوجی جنرل کا انتباہ
امریکی خلائی نگرانی کمپنی لیو لیبز کے مطابق اس کے بعد یہ شے ایک دوسرے چینی سیٹلائٹ کے گرد چکر لگاتے ہوئے دوبارہ خلائی جہاز کی سمت واپس آئی۔
رپورٹ کے مطابق چینی فوج سے منسلک محققین ایسے سیٹلائٹس پر بھی کام کر رہے ہیں جو دوسرے خلائی جہازوں کا تعاقب اور انہیں پکڑنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
NEW: US and China Are Building ‘Hunter’ Satellites for a New Space War: reporthttps://t.co/wOHTEsetOS
— Insider Paper (@TheInsiderPaper) September 2, 2026
بعض تحقیقی منصوبوں میں خلائی جہازوں کو دوبارہ ایندھن فراہم کرنے کی ٹیکنالوجی بھی شامل ہے، جس سے وہ زیادہ عرصے تک مدار میں فعال رہ سکتے ہیں۔
امریکا بھی ایکس-37 بی نامی بغیر پائلٹ خلائی جہاز کے ذریعے مختلف تجربات کر رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق جدید جنگ میں سیٹلائٹس مواصلات، نگرانی، نیویگیشن اور میزائل دفاع کے لیے انتہائی اہم ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: یوکرین جنگ کے بعد خلا میں عسکری سرگرمیوں پر عالمی خدشات بڑھ گئے
دریں اثنا، امریکا اور برطانیہ نے گزشتہ سال پہلی مرتبہ مشترکہ فوجی خلائی کارروائی کی، جس کے دوران ایک امریکی سیٹلائٹ چینی سیٹلائٹ کے قریب سے گزرا، ماہرین کے مطابق اس کارروائی کا مقصد بیجنگ کو اتحادیوں کی صلاحیت اور اتحاد کا پیغام دینا بھی ہو سکتا ہے۔
امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ چین تیزی سے خلائی جنگ کی صلاحیتیں بڑھا رہا ہے، جبکہ بیجنگ کا مؤقف ہے کہ وہ خلا کو پرامن مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی حمایت کرتا ہے اور امریکا ہی خلائی ہتھیاروں کی دوڑ کو ہوا دے رہا ہے۔













