پیٹرولیم لیوی میں کمی کے لیے حکومت اور جماعت اسلامی کا مذاکراتی کمیٹیاں قائم کرنے پر اتفاق

جمعرات 3 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی میں کمی اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے مشترکہ طور پر سفارشات مرتب کرنے پر اتفاق کرلیا۔

لاہور میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکومت اور جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی میں کمی کے لیے الگ الگ ماہرین کی کمیٹیاں تشکیل دیں گی، جو قابلِ عمل تجاویز پر مذاکرات کریں گی۔

 احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کیے ہیں، حکومت کی بھی یہی کوشش ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف ملے اور جماعت اسلامی کی بھی خواہش ہے کہ عوام کو آسانی فراہم کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: لانگ مارچ: پنجاب حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کامیاب

انہوں نے کہا کہ حکومت نے جماعت اسلامی سے کہا ہے کہ وہ اپنی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے، حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے اور جتنا ممکن ہوسکا عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کرے گی۔ مذاکرات میں حکومت اپنا موقف جماعت اسلامی کے سامنے رکھے گی۔

احسن اقبال نے بتایا کہ حکومتی وفد نے لاہور میں جماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقات کی، جس میں پیٹرولیم لیوی سمیت عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات پر بات چیت ہوئی۔ حکومت ماہرین کی کمیٹی تشکیل دے گی جبکہ جماعت اسلامی سے بھی ایسی ہی کمیٹی بنانے کی درخواست کی گئی ہے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ ملک میں بدامنی ہو جس سے دشمن ملک فائدہ اٹھائے، اس وقت ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، ایسے میں عوامی اجتماعات کو کوئی بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتا ہے، وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب مل کر ملک میں امن کے لیے کوشش کریں۔

وفاقی وزیر نے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حکومتی وفد کی گفتگو بڑے اچھے انداز میں سنی۔ جماعت اسلامی نے یقین دلایا ہے کہ کوئی ایسا مطالبہ نہیں کیا جائے گا جس سے ملکی مفاد کو نقصان پہنچے۔

اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وہ جماعت اسلامی کے شکر گزار ہیں کہ اس نے حکومتی وفد کا اچھے طریقے سے استقبال کیا اور ہماری بات سنی۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جماعت اسلامی کا موقف بھی یہی ہے کہ عوام کو ریلیف ملے، وزیراعظم شہباز شریف بھی یہی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکا، ایران جنگ کی وجہ سے آنے والی مہنگائی کے سیلاب سے عوام کو کیسے ریلیف دیا جائے۔

اس موقع پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کے وفد سے متعدد امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔

ہمارا خالصتاً ایجنڈا عوام کے بڑے مسائل کے ساتھ ساتھ روزمرہ زندگی سے جڑے مسائل کو اجاگر کرنا ہے، حافظ نعیم الرحمان

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنوں کو آج 19واں دن ہے، پاکستان میں ابتدا میں تین مقامات سے دھرنے شروع کیے گئے تھے جو اب بڑھ کر تقریباً 15 سے 20 مقامات تک پہنچ چکے ہیں اور ان میں لوگوں کی شرکت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے یہ دھرنے کسی شوق یا ذاتی ایجنڈے کے تحت نہیں دیے، ملک میں جماعت اسلامی کا کوئی انتخاب بھی نہیں ہورہا، ہمارا خالصتاً ایجنڈا عوام کے بڑے مسائل کے ساتھ ساتھ روزمرہ زندگی سے جڑے مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ مہنگائی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ہر شخص، ہر خاتون اور ہر بچہ اس سے متاثر ہورہا ہے، لوگوں کے لیے زندگی مشکل ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسٹورنٹس اور بڑے خریداری مراکز میں نظر آنے والے لوگوں کی تعداد پاکستان کی مجموعی آبادی کے تناسب سے چند فیصد سے زیادہ نہیں، جبکہ 90 سے 95 فیصد لوگ بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی رپورٹس کے مطابق 40 فیصد سے زیادہ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، ایسے حالات میں بنیادی سہولیات اور ضروری اشیا کی قیمتیں بھی اگر بہت زیادہ ہوجائیں تو عام آدمی کہاں جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر داخلہ کی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات، اہم قومی و علاقائی امور زیر بحث

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ موٹر سائیکل چلانے والا ایسا شخص جس کی آمدنی قابل ٹیکس نہیں، وہ ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً 35 فیصد تک ٹیکس ادا کر رہا ہے، جس میں تقریباً 80 سے 85 روپے کی لیوی بھی شامل ہے، یہ بڑی زیادتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی اس مقصد کے لیے عائد کی گئی تھی کہ اس سے ریفائنریوں کی صلاحیت اور ذخیرہ کرنے کی استعداد میں اضافہ کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں پاکستان کا درآمدی بوجھ کم ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے ذریعے اب تک تقریباً 8 ہزار ارب روپے جمع ہوچکے ہیں، جبکہ حکومت نے گزشتہ سال لیوی کی وصولی کا جو ہدف مقرر کیا تھا، اس سے بھی تقریباً 100 ارب روپے زیادہ جمع کیے گئے اور یہ سب ایسے وقت میں ہوا جب جنگ جاری تھی۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جنگ اور ہنگامی حالات میں بڑے بڑے معاہدے بھی عارضی طور پر معطل ہوجاتے ہیں، لیکن پاکستان میں بجلی کے ایسے معاہدوں کے تحت ادائیگیاں جاری رہیں جن کے باوجود بجلی پیدا نہیں ہوتی، اسی طرح گیس کی دوبارہ گیس بنانے والے کارخانوں کو بھی روزانہ تقریباً 5 لاکھ 38 ہزار ڈالر ادا کیے جارہے ہیں، حالانکہ اس وقت مطلوبہ مقدار میں گیس درآمد نہیں ہورہی۔

انہوں نے کہا کہ گیس کی دوبارہ گیس بنانے والے کارخانوں سے متعلق معاہدوں پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے، ایسے معاہدے ہونے چاہئیں جن میں استعمال کے مطابق ادائیگی ہو، صرف صلاحیت برقرار رکھنے کی بنیاد پر ادائیگی نہ کی جائے۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ موجودہ حالات میں عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معیشت کا پہیہ نہیں چلے گا تو گھریلو صنعت اور بڑی صنعت دونوں متاثر ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی بنیادی تجویز پیٹرولیم لیوی ختم کرکے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرنا ہے۔ انہوں نے حکومت کو یقین دہانی کرائی کہ جماعت اسلامی ہٹ دھرمی پر مبنی مطالبات نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی وفد نے جماعت اسلامی سے دھرنے مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم جماعت اسلامی نے حکومت سے مذاکرات کے ساتھ دھرنے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اگر معیشت کا پہیہ نہیں چلے گا تو گھریلو صنعت اور صنعتیں متاثر ہوں گی جبکہ عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہوجائے گی۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے ان سے منسلک تمام اشیا مہنگی ہوجاتی ہیں اور قیمتیں دوبارہ کم نہیں ہوتیں، روٹی، آٹا اور چینی سمیت ہر چیز مہنگی ہوجاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنے لیے کوئی ریلیف نہیں مانگ رہی بلکہ شدید مہنگائی کے دور میں حکومت سے عام آدمی کو ریلیف دینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر نے بتایا کہ حکومت نے اپنے معاہدوں اور اخراجات کی تفصیلات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان معاملات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے، جس کے بعد جماعت اسلامی سے تکنیکی ٹیم تشکیل دینے کو کہا گیا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے لیاقت بلوچ کی سربراہی میں تکنیکی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جس میں نوید علی بیگ، ضیاءالدین انصاری، نصراللہ رندھاوا اور فراست شاہ شامل ہیں۔ کمیٹی اعداد و شمار کی روشنی میں حکومت کے ساتھ معاملات پر بات کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ عوام کو سبسڈی اور ریلیف دیا جائے، بجائے اس کے کہ عوام سے ایسے بھاری محصولات وصول کیے جائیں جو ان پر مزید بوجھ ڈال رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ نجی بجلی گھروں کے حوالے سے حکومت نے جو مذاکرات کیے تھے، ان کے نتیجے میں بجلی کے یونٹ کی قیمت میں کمی آئی تھی، تاہم یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔ حکومت کو چاہیے کہ نجی بجلی گھروں کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرے تاکہ بجلی کی لاگت مزید کم کی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے چار بنیادی مطالبات ہیں، جن میں پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ، پیٹرول کی قیمت میں کمی، نجی بجلی گھروں کے معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات اور آٹا و روٹی سستی کرنا شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ غریب عوام کے لیے 10 روپے میں روٹی فراہم کی جاسکتی ہے، جبکہ اس وقت کسان بھی مشکلات کا شکار ہے اور مارکیٹ میں آٹا بھی مہنگا ہے۔ آٹا اور روٹی سستی کرنا حکمرانی اور مؤثر نظام کا معاملہ ہے، جس کے ذریعے عوام کو ریلیف دیا جاسکتا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی بنیادی طور پر پیٹرولیم لیوی ختم کرنے اور پیٹرول کی قیمت کم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ جنگ شروع ہوئی تو خام تیل کی قیمت تقریباً 72 سے 74 ڈالر فی بیرل تھی، بعد میں عالمی منڈی میں قیمت دوبارہ تقریباً 74 ڈالر تک آگئی، لیکن اس تناسب سے عوام کو قیمتوں میں ریلیف نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دباؤ کے بعد وزیراعظم نے کراچی جانے اور معاملات پر بات کرنے کی ہدایت کی، جس کے نتیجے میں ڈیزل کی قیمت میں 30 روپے کمی کی گئی۔ ان کے بقول بیرون ملک سے آنے والے صاف شدہ تیل کی قیمت کا بوجھ بھی ملک میں صارفین سے وصول کیا جارہا تھا، تاہم جب اس معاملے کا جائزہ لیا گیا تو کئی مسائل سامنے آئے۔

جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک کے حالات، قانون و نظم اور عالمی معاملات کو سمجھتی ہے اور کبھی غیر قانونی مطالبات نہیں کرتی۔ اس کے باوجود اگر ایک سنجیدہ سیاسی جماعت اور اس کے بڑی تعداد میں کارکن شدید احتجاج اور دھرنوں میں موجود ہیں تو حکومت کو عوامی مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیاں اور مارچ کیے گئے جبکہ کئی شہروں میں مکمل ہڑتال بھی ہوئی، جس پر وہ پاکستانی شہریوں اور تاجروں کے شکر گزار ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے ایک بار پھر مطالبات دہراتے ہوئے کہا کہ حکومت پیٹرولیم لیوی ختم کرے، پیٹرول کی قیمت کم کرے، نجی بجلی گھروں کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرے تاکہ بجلی کی قیمت کم ہوسکے اور آٹا و روٹی سستی کی جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp