حکومت نے جماعت اسلامی کو ایران اور امریکا مذاکرات اور اس ضمن میں اٹھائے گئے حکومتی اقدامات پر اعتماد میں لیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے اہم ملاقات کی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران تاریخی امن معاہدہ : کشیدگی کے دوران کب کیا ہوا؟
ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی مفاہمت کے بعد خطے کی موجودہ صورتحال بھی زیر غور آئی۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمت کو خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے خوش آئند پیش رفت قرار دیا۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ آمد
وزیرداخلہ کی امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے اہم ملاقات
ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیالایران امریکہ مفاہمت کے بعد خطے کی موجودہ صورتحال پر بھی بات چیت pic.twitter.com/4pU0RCkCsw
— Ministry of Interior GoP (@MOIofficialGoP) June 16, 2026
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اس مفاہمت کے حوالے سے پاکستان کے مخلصانہ اور مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا کے مابین مفاہمت کے سلسلے میں پاکستان کے تاریخی کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور اس سے پورے خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے امیر جماعت اسلامی کو ایران اور امریکا مذاکرات اور اس حوالے سے حکومتی اقدامات پر اعتماد میں لیا۔
اس موقع پر حافظ نعیم الرحمان نے صومالیہ میں پھنسے پاکستانیوں کا معاملہ بھی اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت یرغمال پاکستانیوں کی فوری اور بحفاظت واپسی کے لیے مؤثر سفارتی کردار ادا کرے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے پر اتفاق، معاہدہ امریکا کی جانب سے مکمل ہو چکا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
ملاقات میں ملکی معیشت کی بہتری اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
اس موقع پر محسن نقوی نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے خطے میں امن کے قیام کے لیے ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کا کریڈٹ پاکستان کو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہیں کہ ہماری حقیر کاوشوں کو قبول فرمایا۔














