ایران کے جنوبی علاقے سیریک میں شادی کی ایک تقریب پر ہونے والے ہلاکت خیز حملے کی امریکا نے تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ رائٹرز کے تجزیے میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ عمارت کو امریکی ہتھیار نے براہِ راست نشانہ بنایا۔ دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واقعے کی تحقیقات کی تصدیق کرتے ہوئے حملے سے متعلق ایرانی دعوؤں پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق منگل کو سیریک کے ساحلی علاقے کوہستک میں ایک گھر میں شادی کی تقریب جاری تھی کہ وہاں دھماکا ہوا۔ ایرانی حکام کے مطابق میزائل کے ٹکڑے لگنے سے ابتدائی طور پر 4 افراد ہلاک اور 67 زخمی ہوئے، تاہم بعد میں 22 سالہ ایک خاتون نے اسپتال میں دم توڑ دیا، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 5 ہوگئی۔
🚨🇺🇸🇮🇷 : Four weapons experts told Reuters the Iranian wedding was a direct American hit, and Vance says Washington is investigating
All four found the roof damage consistent with a munition detonating on contact, and three judged it American, with retired British Army brigadier… pic.twitter.com/SEr4qTPrqP
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) September 4, 2026
رائٹرز نے واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز کا 4 عسکری و ہتھیاروں کے ماہرین سے تجزیہ کرایا۔ 3 ماہرین کے مطابق نقصان کی نوعیت اس بات سے مطابقت رکھتی ہے کہ عمارت کو براہِ راست میزائل یا امریکی ہتھیار نے نشانہ بنایا، نہ کہ کسی دوسرے ہدف سے ٹکرا کر میزائل کے ملبے یا مڑنے کے نتیجے میں نقصان ہوا۔
ادھر بی بی سی کے مطابق امریکی فوج ایرانی دعوؤں کی تحقیقات کر رہی ہے کہ جنوبی ایران میں امریکی حملے کے نتیجے میں شادی کی تقریب میں کم از کم 4 افراد، جن میں 2 بچے بھی شامل تھے، ہلاک ہوئے۔ ایرانی ہلال احمر کے مطابق گھر میں جاری شادی کی تقریب کے دوران میزائل کے ٹکڑے لگنے سے ہلاکتیں ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا خارگ جزیرہ تباہ کرنے کا دعویٰ، لارک پر حملے کے بعد ایران امریکا کشیدگی بڑھ گئی
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے واقعے پر انتہائی شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی سرکاری میڈیا نے جنگ کے دوران ہونے والے واقعات کی درست رپورٹنگ نہیں کی، تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ امریکا واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ شہریوں کو کبھی نشانہ نہیں بناتی۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق تحقیقات میں مختلف امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جن میں امریکی حملے، ایرانی فضائی دفاعی میزائل کے راستے سے ہٹنے یا کسی ناکام انٹرسیپٹر کے باعث جانی نقصان شامل ہیں۔
An explosion that ripped through a wedding celebration in southern Iran, killing four people and injuring at least 68 others, likely resulted from a direct hit by a US munition, according to an analysis by weapons experts who reviewed images verified by Reuters.…
— The Jerusalem Post (@Jerusalem_Post) September 4, 2026
ایرانی وزارت خارجہ نے واقعے کو ’جنگی جرم‘ قرار دیا ہے، جبکہ امریکا نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ میں ایک بار پھر شدید کشیدگی دیکھنے میں آ رہی ہے۔














