امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے اہم توانائی مرکز جزیرہ خارگ کو شدید حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم امریکی حکام نے فوری طور پر اس دعوے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’جزیرہ خارگ کو تباہ کر دیا گیا‘، تاہم رائٹرز کے مطابق ان کے ساتھ شیئر کی گئی دھماکوں کی ویڈیو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ نکلی۔
مزید پڑھیں:امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں
خارگ جزیرہ جنگ سے قبل ایران کی تیل برآمدات کے قریباً 90 فیصد حصے کی ترسیل میں اہم کردار ادا کرتا تھا، اس لیے اسے نشانہ بنائے جانے سے ایران کی توانائی تجارت اور معیشت پر شدید اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
ادھر امریکی حکام کے مطابق امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز کے قریب واقع لارک جزیرے پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے 2 راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے کارروائی کو ’محدود اور انتہائی درست‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی فورسز آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی تیاری کر رہی تھیں، جسے فوری خطرہ قرار دیا گیا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکی کارروائی میں متعدد فوجی اہلکار اور شہری جاں بحق و زخمی ہوئے اور ایران اس کا جواب دے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق لارک جزیرے پر امریکی حملے کے جواب میں ایران نے اردن میں موجود 2 امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ اردن کی فوج کے مطابق اس کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 میزائلوں کو روک لیا گیا۔
مزید پڑھیں:آبنائے ہرمز مکمل طور پر بارودی سرنگوں سے پاک کر دی گئی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
حالیہ جھڑپوں کے باعث آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق ہفتے کے اختتام پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے نمایاں تجارتی جہازوں کی تعداد کم ہوکر قریباً 5 روزانہ رہ گئی، اگرچہ بعض جہازوں نے اپنی شناختی نظام بند کر رکھے ہیں جس کے باعث اصل تعداد زیادہ ہوسکتی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور جنگ سے قبل دنیا کی قریباً پانچویں حصے کی خام تیل کی عالمی ترسیل اسی راستے سے ہوتی تھی۔













