امریکی سینیٹر برنی سینڈرز اور رکنِ ایوانِ نمائندگان الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے امریکا میں نئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) ڈیٹا سینٹرز کے قیام پر عارضی پابندی عائد کرنے کے لیے بل پیش کردیا ہے۔
اے پی کے مطابق مجوزہ قانون کے تحت نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اس وقت تک روکنے کی تجویز دی گئی ہے جب تک کارکنوں اور صارفین کے تحفظ، ماحول کو ممکنہ نقصان سے بچانے اور اے آئی ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال کے لیے قومی سطح پر حفاظتی ضوابط وضع نہیں کرلیے جاتے۔
برنی سینڈرز کا کہنا ہے کہ اے آئی اور روبوٹکس میں تیز رفتار تبدیلیاں امریکی معیشت، جمہوریت، شہریوں کی نجی زندگی، ذہنی و جذباتی صحت اور ماحول پر گہرے اثرات مرتب کریں گی، جبکہ کانگریس اس انقلاب کی نوعیت اور اس کے ممکنہ اثرات کو سمجھنے میں بہت پیچھے ہے۔
Bernie Sanders and Rep. Greg Casar introduced legislation to permanently ban superintelligent AI and pause advanced AI development until federal safety rules exist
Whether or not this passes, it says a lot that "ban the robots" is now a real bill and not just a meme pic.twitter.com/GOMhPwWAzj
— Interesting AF (@interesting_aIl) September 3, 2026
دونوں رہنماؤں کے مطابق عارضی پابندی قانون سازوں، کاروباری اداروں اور ماہرین کو اے آئی اور ڈیٹا سینٹرز کے خطرات کا جائزہ لینے، محنت کش خاندانوں اور جمہوری نظام کے تحفظ اور اس ٹیکنالوجی کو عوام کے مفاد میں استعمال کرنے کے لیے وقت فراہم کرے گی۔
اے پی کے مطابق امریکا میں بجلی کا استعمال 2024 میں ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا اور ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی تعداد کے باعث اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ ایک عام اے آئی پر مرکوز ڈیٹا سینٹر تقریباً ایک لاکھ گھروں کے برابر بجلی استعمال کرسکتا ہے۔
اوکاسیو کورٹیز نے الزام عائد کیا کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی کی دوڑ میں ہزاروں بڑے ڈیٹا سینٹرز تعمیر کررہی ہیں، جس کا اضافی بجلی کا بوجھ عام امریکی صارفین پر منتقل ہورہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نیویارک میئر ظہران ممدانی نے اسکولوں میں ’اے آئی‘ کے استعمال پر پابندی کیوں عائد کی؟، وجہ سامنے آگئی
تاہم دونوں جماعتوں کے متعدد ارکان نے مجوزہ پابندی کی مخالفت کی ہے۔ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمن نے خبردار کیا کہ ڈیٹا سینٹرز پر پابندی چین کو اے آئی میں برتری حاصل کرنے کا موقع دے سکتی ہے۔ دوسری جانب ڈیٹا سینٹر انڈسٹری کا کہنا ہے کہ پابندی سے انٹرنیٹ کی صلاحیت، ملازمتوں، مقامی ٹیکس آمدنی اور امریکی خاندانوں و کاروبار کے اخراجات متاثر ہوسکتے ہیں۔













