نیپال:500 انجینئرز کا انوکھا واٹس ایپ گروپ کیسے تباہ شدہ سرنگوں میں پھنسے افراد کو نکال رہا ہے؟

جمعہ 4 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیپال میں گلیشیئر پھٹنے سے آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد جہاں تکنیکی بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، وہاں 500 سے زائد انجینئرز اور ماہرین کا ایک واٹس ایپ گروپ ریسکیو ٹیموں کے لیے نجات دہندہ بن گیا ہے۔ 22 لاکھ ٹن مٹی اور ملبے تلے دبے ہائیڈرو پاور پروجیکٹس اور سرنگوں کے نقشے، جی پی ایس لوکیشنز اور فوری تکنیکی ہدایات اسی واٹس ایپ گروپ کے ذریعے فراہمی سے جاری ریسکیو آپریشن میں تاریخ کی سب سے انوکھی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

واٹس ایپ پر انجینئرز کا رابطہ اور تکنیکی مدد

نیپال کی وادی تریشولی میں 26 اگست کو آنے والے بھیانک سیلاب، کیچڑ اور ملبے کے بعد اب سرنگوں میں پھنسے ممکنہ افراد کی تلاش کا مرحلہ انتہائی حساس ہو چکا ہے۔ اس مشکل ترین ریسکیو مشن میں ہیلی کاپٹروں اور بھاری مشینری کے ساتھ ساتھ ایک واٹس ایپ گروپ سب سے اہم ہتھیار ثابت ہو رہا ہے۔

یہ گروپ سانحے سے قبل انجینئرز نے قائم کیا تھا، جس میں اب 500 سے زائد سرکاری حکام، ملٹری آفیسرز، انجینئرز اور ہائیڈرو پاور ماہرین شامل ہیں۔

جب چینی سرحد کے قریب ہمالیائی وادی میں واقع چلمے (Chilime) ہائیڈرو پاور پلانٹ پر سرنگوں کے دہانے تلاش کرنا ناممکن ہو گیا تو ایک سرکاری اہلکار نے واٹس ایپ گروپ پر میسج لکھا ’کیا آپ مجھے چلمے پروجیکٹ کا لے آؤٹ ڈرائنگ بھیج سکتے ہیں؟‘ چند ہی منٹوں میں گروپ ممبران نے پاور ہاؤس اور رسائی کی سرنگوں کے تفصیلی نقشے روانہ کر دیے، جن کی مدد سے ریسکیو ٹیمیں ملبے کے نیچے چھپے راستوں کی نشان دہی کرنے میں کامیاب ہوئیں۔

900 لاپتا افراد اور سرنگوں سے معجزانہ نجات

حکام کو امید ہے کہ 6 مختلف ہائیڈرو پاور پروجیکٹس سے لاپتا ہونے والے تقریباً 900 افراد میں سے کچھ نے سیلابی ریلے سے بچنے کے لیے سرنگوں کے اندر پناہ لی ہو گی۔ اس سلسلے میں پہلی بڑی کامیابی جمعہ کے روز اس وقت ملی جب اپر تریشولی 3A پلانٹ کی ایک سرنگ سے حادثے کے 9 دن بعد 2 افراد کو زندہ باہر نکال لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے نیپال: ہائیڈرو پاور سرنگ سے 9 روز بعد 2 کارکن زندہ نکال لیے گئے

نیپال الیکٹریسٹی اتھارٹی کے بورڈ ممبر امشو کرن شاہی کے مطابق، اپر تریشولی 3A میں سرنگ کا دہانہ دبا ہونے کے باعث ریسکیو ٹیموں کو وہاں پہنچنے میں 6 دن لگے۔ ریسکیو ورکرز نے پائپوں کے ذریعے اندر آکسیجن فراہم کی تاکہ اگر کوئی اندر محصور ہو تو اس کی سانسیں بحال رہ سکیں۔ راسوا گڑھی (Rasuwagadhi) پروجیکٹ میں ریسکیو ورکرز 250 میٹر اندر تک پہنچ چکے ہیں جہاں 46 افراد کے ایک خصوصی چیمبر میں محصور ہونے کا خدشہ ہے، جہاں پانی اور خوراک کی موجودگی کی توقع ہے۔

جغرافیائی تبدیلی اور تباہی کے اعداد و شمار

نیپالی فوج کے ترجمان راجہ رام بانیٹ نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ سیلاب نے سرنگوں کے اطراف کے تمام جغرافیے اور ساخت کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اندر کیچڑ، پتھر اور ملبہ بھر چکا ہے جس کی وجہ سے یہ کسی نارمل سرنگ کی بندش جیسی صورتحال نہیں رہی۔

گزشتہ ہفتے گلیشیئر ٹوٹنے سے آنے والے اس تباہ کن سیلاب میں اب تک 1200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 4,000 سے زائد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اس سیلاب نے نیپال کی بجلی پیدا کرنے کی کل صلاحیت کا 10 فیصد حصہ مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔

موبائل لوکیشنز کی مدد

انجینئرز کے اس واٹس ایپ گروپ پر نہ صرف نقشے بلکہ لاپتا ورکرز کے نام اور موبائل نمبرز بھی شیئر کیے جا رہے ہیں تاکہ ٹیلی کام اتھارٹیز کی مدد سے ان کے موبائل فونز کی آخری لوکیشن معلوم کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: چین اور نیپال کی سرحد پر تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئیں

دوسری جانب لاپتا افراد کے اہل خانہ انتہائی کرب کی حالت میں اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں۔ اپر تریشولی 1 میں تعینات 30 سالہ انوائرنمنٹل انجینئر رجیش شریستھا کے والد نے غمزدہ لہجے میں کہتے ہیں ’میں جب بھی باہر دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ وہ اپنا بیگ اٹھائے گھر آ رہا ہے۔ میں صرف اس امید پر زندہ ہوں کہ وہ واپس لوٹ آئے گا۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp