ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ نئی شراکت داری، ایم ایل ون سمیت اہم منصوبوں پر غور

جمعہ 4 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت کے طویل المدتی معاشی تبدیلی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے خصوصی ایگزیکوشن ٹاسک فورسز کے ذریعے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے نائب صدر ینگ منگ یانگ سے ملاقات میں کراچی سے پشاور تک مین لائن ون (ایم ایل ون) ریلوے کوریڈور کی جدید خطوط پر اپ گریڈیشن کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان جدید ٹیکنالوجی میں صفِ اول کی قوم بننے کی جانب گامزن ہے، روبوٹکس اور اے آئی معیشت و دفاع کو نئی طاقت دیں گے، وزیراعظم

وزیراعظم نے کہا کہ ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن ملکی ترجیحات میں شامل اہم ترین انفراسٹرکچر منصوبوں میں سے ایک ہے، جس سے مال برداری کا نظام جدید بنانے، علاقائی تجارتی روابط مستحکم کرنے اور بڑے صنعتی منصوبوں کی معاونت میں مدد ملے گی۔

وزیراعظم نے ایم ایل ون منصوبے پر جلد عملی کام شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کا بروقت آغاز ملکی انفراسٹرکچر کی ترقی اور جدید سفری و تجارتی رابطوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے نائب صدر ینگ منگ یانگ سے ناشتے پر ملاقات میں پاکستان اور اے ڈی بی کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط ترقیاتی شراکت داری کا جائزہ لیا گیا جبکہ نئی کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی 2026 تا 2030 کے تحت ترجیحی منصوبوں اور شعبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نے اے ڈی بی کے نائب صدر کا پاکستان میں اس حیثیت سے پہلے سرکاری دورے پر خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ بینک نے پاکستان میں شہری انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور عوامی خدمات کے اہم منصوبوں کی تکمیل میں مستقل پیشہ ورانہ صلاحیت اور تعاون کا مظاہرہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں: موڈیز نے پاکستان کے بینکاری شعبے کا آؤٹ لک مثبت سے مستحکم کر دیا

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے سخت مالیاتی، ساختی اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے مشکل معاشی بحالی کے مرحلے کو کامیابی سے عبور کیا ہے۔

’ان اصلاحات کے نتیجے میں ملکی معیشت میں میکرو اکنامک استحکام بحال ہوا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بہتر ہوا جبکہ فچ، موڈیز اور ایس اینڈ پی سمیت بڑے عالمی کریڈٹ ریٹنگ اداروں کی جانب سے پاکستان کے لیے مستحکم آؤٹ لک بھی سامنے آیا۔‘

مزید پڑھیں: پاکستان معیشت کی بحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا ہارورڈ کانفرنس میں خطاب

ملاقات میں نجی شعبے کے لیے تعاون بڑھانے، توانائی اور غذائی تحفظ یقینی بنانے، برآمدی مسابقت میں بہتری، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

ملاقات کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی 2026 تا 2030 میں طے کردہ ترجیحات کو ٹھوس اور مؤثر منصوبوں میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ پاکستان میں پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینے کے ساتھ عوام کے معیار زندگی میں نمایاں بہتری لائی جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp