امریکی ریاست ٹینیسی میں واقع نسان کار ساز کمپنی کے سمرنا پلانٹ میں اس وقت ایک دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب پرزے منتقل کرنے والے جدید روبوٹس سافٹ ویئر کی الجھن کے باعث اپنے ہی بنائے ہوئے نظام میں پھنس گئے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب نظام نے غلطی سے دو روبوٹس کو بیک وقت ایک ہی مقام پر بھیج دیا، تاہم کمپنی ماہرین اس نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔
نسان فیکٹری کے ان نئے ربورٹس ورکرز کی ٹانگیں نہیں بلکہ پہیے ہیں اور کام کے آغاز پر ہی انہوں نے ایک ٹریفک جام کھڑا کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سوزوکی کلٹس کی قیمت فائلرز اور نان فائلرز کے لیے کیا ہوگی؟
پلانٹ کے سینیئر ڈائریکٹر مینوفیکچرنگ، جے ایس بولٹن نے کہا کہ ’ظاہر ہے آپ کی خواہش ہوتی ہے کہ ہر چیز شروع سے ہی بالکل درست کام کرے، لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔‘
باڈی اور اسٹامپنگ کے ڈائریکٹر سلیٹ نے واضح کیا کہ روبوٹس میں کوئی تکنیکی خرابی نہیں تھی، بلکہ اصل چیلنج ان کے سافٹ ویئر کو نسان کے مٹیریل فلو اور آلات کنٹرول کرنے والے نظام کے ساتھ ہم آہنگ کرنا تھا۔
پاور ہاؤس کنٹرولز کے انضمام کے ماہرین اس نظام کو شیڈول کے مطابق چلانے کے لیے ہفتے کے 7 دن اور 24 گھنٹے کام کر رہے ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی اور کام کا طریقہ کار
یہ روبوٹس راک ویل آٹومیشن کے او ٹی ٹی او ڈویژن نے تیار کیے ہیں، جو باڈی شاپ میں لیڈار اور کیمرہ ٹیکنالوجی کی مدد سے راستہ تلاش کرتے ہیں جہاں ملازمین گاڑیوں کے فریم ویلڈ کرتے ہیں۔ سب سے بڑا روبوٹ 4.5 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے 4,190 پاؤنڈ وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پرانے آٹومیٹڈ سسٹمز کے برعکس جنہیں مقناطیسی ٹیپ کی ضرورت ہوتی تھی، یہ نئے روبوٹس پرزوں کے ریک کے نیچے جا کر انہیں اٹھاتے ہیں اور پروڈکشن سیلز تک باآسانی پہنچاتے ہیں۔
فی الحال کام کی ترتیب یہ ہے کہ فورک لفٹ ڈرائیورز ٹرکوں سے پرزے اتار کر ایک مخصوص جگہ تک لاتے ہیں، جہاں سے یہ روبوٹس انہیں آگے منتقل کرنے کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔
مزید پڑھیں:چین میں ٹیسلا سمیت 40 لاکھ سے زائد الیکٹرک گاڑیاں واپس بلا لی گئیں، وجہ کیا ہے؟
اس جدید نظام کی مکمل تنصیب کے بعد، یہ روبوٹس مٹیریل ہینڈلنگ کا وہ کام سنبھال لیں گے جو فی الحال 64 فورک لفٹ اور ٹگ آپریٹرز انجام دے رہے ہیں۔
نسان انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ ملازمین پے رول پر رہیں گے تاہم انہیں صنعتی روبوٹس چلانے سمیت دیگر نئی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔
سلیٹ کے مطابق جب 4 ماہ قبل اس تبدیلی کا اعلان ہوا تو ابتدا میں ملازمین کا ردعمل اچھا نہیں تھا اور انہیں لگا کہ ’ان کی نوکریاں ختم ہو جائیں گی‘، تاہم اب کچھ ورکرز نے اس تبدیلی کو خوش دلی سے قبول کر لیا ہے۔
کسی بھی غیر متوقع صورتحال اور آٹومیٹڈ سسٹم میں خرابی کے پیشِ نظر فورک لفٹ آپریٹرز کو فی الحال مکمل طور پر الرٹ رکھا گیا ہے۔














