نسان فیکٹری میں خود کار روبوٹس اپنے ہی بنائے ٹریفک نظام میں پھنس گئے، انسانوں کی ضرورت پھر پڑ گئی

جمعہ 4 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی ریاست ٹینیسی میں واقع نسان کار ساز کمپنی کے سمرنا پلانٹ میں اس وقت ایک دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب پرزے منتقل کرنے والے جدید روبوٹس سافٹ ویئر کی الجھن کے باعث اپنے ہی بنائے ہوئے نظام میں پھنس گئے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب نظام نے غلطی سے دو روبوٹس کو بیک وقت ایک ہی مقام پر بھیج دیا، تاہم کمپنی ماہرین اس نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔

نسان فیکٹری کے ان نئے ربورٹس ورکرز کی ٹانگیں نہیں بلکہ پہیے ہیں اور کام کے آغاز پر ہی انہوں نے ایک ٹریفک جام کھڑا کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سوزوکی کلٹس کی قیمت فائلرز اور نان فائلرز کے لیے کیا ہوگی؟

پلانٹ کے سینیئر ڈائریکٹر مینوفیکچرنگ، جے ایس بولٹن نے کہا کہ ’ظاہر ہے آپ کی خواہش ہوتی ہے کہ ہر چیز شروع سے ہی بالکل درست کام کرے، لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔‘

باڈی اور اسٹامپنگ کے ڈائریکٹر سلیٹ نے واضح کیا کہ روبوٹس میں کوئی تکنیکی خرابی نہیں تھی، بلکہ اصل چیلنج ان کے سافٹ ویئر کو نسان کے مٹیریل فلو اور آلات کنٹرول کرنے والے نظام کے ساتھ ہم آہنگ کرنا تھا۔

پاور ہاؤس کنٹرولز کے انضمام کے ماہرین اس نظام کو شیڈول کے مطابق چلانے کے لیے ہفتے کے 7 دن اور 24 گھنٹے کام کر رہے ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی اور کام کا طریقہ کار

یہ روبوٹس راک ویل آٹومیشن کے او ٹی ٹی او ڈویژن نے تیار کیے ہیں، جو باڈی شاپ میں لیڈار اور کیمرہ ٹیکنالوجی کی مدد سے راستہ تلاش کرتے ہیں جہاں ملازمین گاڑیوں کے فریم ویلڈ کرتے ہیں۔ سب سے بڑا روبوٹ 4.5 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے 4,190 پاؤنڈ وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پرانے آٹومیٹڈ سسٹمز کے برعکس جنہیں مقناطیسی ٹیپ کی ضرورت ہوتی تھی، یہ نئے روبوٹس پرزوں کے ریک کے نیچے جا کر انہیں اٹھاتے ہیں اور پروڈکشن سیلز تک باآسانی پہنچاتے ہیں۔

فی الحال کام کی ترتیب یہ ہے کہ فورک لفٹ ڈرائیورز ٹرکوں سے پرزے اتار کر ایک مخصوص جگہ تک لاتے ہیں، جہاں سے یہ روبوٹس انہیں آگے منتقل کرنے کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔

مزید پڑھیں:چین میں ٹیسلا سمیت 40 لاکھ سے زائد الیکٹرک گاڑیاں واپس بلا لی گئیں، وجہ کیا ہے؟

اس جدید نظام کی مکمل تنصیب کے بعد، یہ روبوٹس مٹیریل ہینڈلنگ کا وہ کام سنبھال لیں گے جو فی الحال 64 فورک لفٹ اور ٹگ آپریٹرز انجام دے رہے ہیں۔

نسان انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ ملازمین پے رول پر رہیں گے تاہم انہیں صنعتی روبوٹس چلانے سمیت دیگر نئی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔

سلیٹ کے مطابق جب 4 ماہ قبل اس تبدیلی کا اعلان ہوا تو ابتدا میں ملازمین کا ردعمل اچھا نہیں تھا اور انہیں لگا کہ ’ان کی نوکریاں ختم ہو جائیں گی‘، تاہم اب کچھ ورکرز نے اس تبدیلی کو خوش دلی سے قبول کر لیا ہے۔

کسی بھی غیر متوقع صورتحال اور آٹومیٹڈ سسٹم میں خرابی کے پیشِ نظر فورک لفٹ آپریٹرز کو فی الحال مکمل طور پر الرٹ رکھا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں پاکستان ساتھ کھڑا ہے، اسحاق ڈار

کوٹھیاں دھرنے کے قریب فائرنگ حادثے کو ریاستی اداروں سے منسوب کرنے کا سوشل میڈیا پروپیگنڈا ناکام

پاکستانی گانوں پر ناروے کا آرٹسٹ بھی جھوم اٹھا، لاہور کی سُرتال اکیڈمی کے بچوں نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی

صائمہ بی بی قتل کیس، سپریم کورٹ نے عمر قید کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

17 لاکھ کی گیس چوری کا ثبوت کہاں ہے؟ وفاقی آئینی عدالت کا ایس این جی پی ایل پر اظہارِ برہمی

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں