امریکی ریاست میساچوسٹس میں اپنے 3 کم سن بچوں کے قتل کے الزام میں زیرِ سماعت لنڈسے کلینسی کا تقریباً 6 ہفتے جاری رہنے والا مقدمہ جیوری کے کسی حتمی فیصلے پر پہنچے بغیر ختم ہوگیا۔ جج نے جیوری کے ارکان میں شدید اختلاف کے بعد مقدمے کو ’مِس ٹرائل‘ قرار دے دیا، جس کے بعد استغاثہ کی جانب سے دوبارہ مقدمہ چلانے کا راستہ کھل گیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 36 سالہ لنڈسے کلینسی پر جنوری 2023 میں اپنے 3 بچوں، 5 سالہ کورا، 3 سالہ ڈاسن اور 8 ماہ کے کیلن کو گھر کے تہہ خانے میں ورزش کے لیے استعمال ہونے والے بینڈز سے گلا گھونٹ کر قتل کرنے کا الزام تھا۔ واقعے کے بعد لنڈسے نے خودکشی کی کوشش بھی کی، جس کے نتیجے میں وہ دوسری منزل سے گرنے کے باعث مفلوج ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور: فائرنگ کا افسوسناک واقعہ، خاتون اور 2 بچے قتل، ملزم نے خودکشی کر لی
مقدمے کے دوران دفاع نے مؤقف اختیار کیا کہ لنڈسے شدید ’پوسٹ پارٹم سائیکوسس‘ یعنی بچے کی پیدائش کے بعد پیدا ہونے والی شدید نفسیاتی کیفیت کا شکار تھی اور اسے اپنے اعمال کا درست ادراک نہیں تھا۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ اسے ذہنی بیماری کے باعث قتل کے الزام سے بری کیا جائے۔
استغاثہ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لنڈسے کو اپنے اقدامات کی سنگینی اور غلط ہونے کا علم تھا اور اس نے بچوں کو جان بوجھ کر قتل کیا۔ پراسیکیوٹرز نے ایسے شواہد بھی پیش کیے جن کے مطابق قتل سے قبل اس نے اپنے شوہر کو گھر سے باہر بھیجا اور اس کے واپس آنے میں لگنے والے وقت کا اندازہ فون پر لگایا تھا۔
جیوری نے 7 روز تک غور و خوض کیا لیکن کسی فیصلے پر متفق نہ ہوسکی۔ دفاعی وکیل نے ایک رکنِ جیوری کو ہٹانے کی درخواست بھی کی، تاہم جج نے اسے مسترد کردیا۔ بعد ازاں میساچوسٹس کی اعلیٰ عدالت نے بھی ہنگامی اپیل مسترد کردی، جس کے بعد جج نے مقدمہ بے نتیجہ ختم کردیا۔
Lindsay Clancy's lawyers vowed to continue their civil lawsuit against the doctors who treated her prior to the killing of her children. https://t.co/4eGLdKgmD9 pic.twitter.com/REDrTb1lHe
— WCVB-TV Boston (@WCVB) September 4, 2026
پلیماؤتھ کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی ٹم کروز نے کہا کہ بچوں کا قتل ہوا ہے اور ان کا دفتر انصاف کے حصول کی ذمہ داری پوری کرے گا، تاہم انہوں نے فوری طور پر یہ فیصلہ نہیں کیا کہ مقدمہ دوبارہ چلایا جائے گا یا نہیں۔
لنڈسے کلینسی اس وقت بھی ایک سرکاری ذہنی صحت کے مرکز میں زیرِ حراست ہے اور اسے 29 ستمبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
اگر مقدمہ دوبارہ چلایا جاتا ہے اور لنڈسے کلینسی قتل کی مجرم قرار پاتی ہے تو اسے عمر قید کا سامنا ہوسکتا ہے، جبکہ ذہنی بیماری کی بنیاد پر بری ہونے کی صورت میں اسے ریاستی نفسیاتی اسپتال میں طبی نگرانی کے لیے رکھا جاسکتا ہے۔













