بلوچستان کے ضلع پشین میں زِیارت کراس کے قریب سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملے اور اس کی ذمہ داری سے متعلق متضاد دعوؤں نے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے باہمی روابط اور دہشتگرد گروہوں کے درمیان ممکنہ تعاون پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹس میں بھی ٹی ٹی پی، بی ایل اے، القاعدہ اور داعش خراسان کے درمیان تربیتی، سہولت کاری اور لاجسٹک روابط کی اطلاعات کا ذکر کیا گیا ہے۔
3 ستمبر کو پشین کے علاقے کچ مور میں زِیارت کراس کے قریب فرنٹیئر کور کے دستے پر حملہ کیا گیا۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں 11 دہشتگردوں کو ہلاک کیا، جبکہ 8 سیکیورٹی اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ ایف سی پارٹی اور اسسٹنٹ کمشنر ہرنائی کے ہمراہ موجود دستے کو نشانہ بنا کر کیا گیا تھا۔
واقعے کے بعد بی ایل اے نے دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے زِیارت کراس کے قریب سیکیورٹی فورسز کے قافلے کو نشانہ بنایا اور 18 اہلکار ہلاک کیے۔ بھارتی میڈیا سمیت بعض دیگر ذرائع نے بھی بی ایل اے کے اس دعوے کو رپورٹ کیا، تاہم یہ اعداد و شمار پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ہلاکتوں کے اعداد سے مطابقت نہیں رکھتے۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان: سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 21 دہشتگرد ہلاک، 6 اہلکار جام شہادت نوش کر گئے
یہی تضاد اس واقعے کو مزید اہم بنا دیتا ہے۔ اگر حملے کی ذمہ داری سے متعلق دعوے کو الگ رکھا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مختلف دہشتگرد تنظیمیں کس حد تک ایک دوسرے کی کارروائیوں کو اپنے نام سے پیش کرکے اپنی عملی استعداد اور اثر و رسوخ کا تاثر بڑھا رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت کام کرنے والی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی 38ویں رپورٹ میں دہشتگرد گروہوں کے درمیان بڑھتے روابط کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک رکن ملک نے بتایا کہ بی ایل اے کے جنگجوؤں نے افغانستان میں القاعدہ کے تربیت کاروں سے ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کے ساتھ تربیت حاصل کی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ القاعدہ نے طویل عرصے سے ٹی ٹی پی کو نظریاتی رہنمائی، تربیت اور مدد فراہم کی ہے۔
اقوام متحدہ کی ایک اور رپورٹ میں رکن ممالک کی جانب سے یہ اطلاع دی گئی کہ بی ایل اے نے ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے ساتھ مشترکہ تربیتی کیمپوں اور وسائل کے ذریعے تعاون کیا، جبکہ حملوں اور کمانڈروں کی ملاقاتوں میں بھی رابطہ کاری کی گئی۔ اسی رپورٹ میں داعش خراسان اور بی ایل اے کے درمیان لاجسٹک سہولت کاری کے مشترکہ نیٹ ورکس کی نشاندہی بھی کی گئی۔
38ویں رپورٹ کے مطابق افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی کا خطرہ صرف ایک تنظیم تک محدود نہیں۔ رپورٹ نے ٹی ٹی پی کی بڑھتی سرگرمیوں، القاعدہ کی معاونت اور داعش خراسان کی دوبارہ منظم ہونے کی کوششوں کا ذکر کیا۔ اس کے مطابق افغانستان میں موجود مختلف گروہوں کے درمیان تربیت، سہولت کاری اور روابط خطے کے لیے ایک وسیع تر سیکیورٹی چیلنج بن چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق افغان حکام نے تقریباً 2 ہزار ٹی ٹی پی جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو پاکستان کی سرحد کے قریب علاقوں سے افغانستان کے اندرونی علاقوں میں منتقل کیا، جبکہ طالبان سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جانب سے ٹی ٹی پی قیادت کو پاکستان کے خلاف حملے روکنے کی وارننگ دینے کی اطلاع بھی دی گئی۔ تاہم اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے بنیادی ڈھانچے اور اس کے روابط کے خاتمے کی صورت حال اب بھی تشویش کا باعث ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں زیارت کراس حملہ، ٹی ٹی پی کا ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ، بھارتی میڈیا کی کوریج پر بھی سوالات
زِیارت کراس کا واقعہ اس وسیع تر تناظر میں اس لیے اہم ہے کہ دہشتگرد تنظیمیں بظاہر الگ الگ ناموں اور مقاصد کے ساتھ کام کرتی ہیں، لیکن اقوام متحدہ کی رپورٹس میں ان کے درمیان تربیت، سہولت کاری، وسائل اور رابطوں کے شواہد یا رکن ممالک کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر ماہرین کے نزدیک دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے صرف انفرادی تنظیموں کو نشانہ بنانا کافی نہیں، بلکہ ان کے تربیتی مراکز، سہولت کاروں، مالیاتی ذرائع، اسلحے کی ترسیل اور سرحد پار رابطوں کے پورے نیٹ ورک کو بھی توجہ کا مرکز بنانا ہوگا۔ زِیارت کراس حملے سے متعلق مختلف دعوے اسی وسیع تر دہشتگرد نیٹ ورک کی پیچیدگی کو نمایاں کرتے ہیں۔














