امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع کو ’چھوٹی بات‘ قرار دیتے ہوئے نائب صدر جے ڈی وینس کے اس مؤقف کا دفاع کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کئی ماہ سے جاری لڑائی کو ’جنگ‘ نہیں کہا جا سکتا۔
امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی حملے اب وقفے وقفے سے ہو رہے ہیں اور بہت سے لوگ اسے جنگ نہیں کہتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وینس کی بات سمجھ سکتے ہیں اور خود بھی اسے ’فوجی تنازع‘ کہتے ہیں کیونکہ یہ امریکا کے لیے کوئی بڑا معاملہ نہیں۔
جے ڈی وینس نے ایک روز قبل وائٹ ہاؤس بریفنگ میں کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جاری لڑائی کو جنگ قرار نہیں دیں گے۔ ان کے مطابق اس وقت کوئی فعال فائرنگ نہیں ہو رہی، تاہم ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں خلیجی اتحادی ملک کویت پر فائرنگ کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا خارگ جزیرہ تباہ کرنے کا دعویٰ، لارک پر حملے کے بعد ایران امریکا کشیدگی بڑھ گئی
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع پر اب تک امریکی ٹیکس دہندگان کو 37.5 ارب ڈالر سے زیادہ کا خرچ برداشت کرنا پڑا ہے جبکہ 18 امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس جانی نقصان کو ویتنام جنگ سمیت ماضی کی بڑی جنگوں کے مقابلے میں کم قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف صرف فضائی حملے کیے ہیں اور امریکی فوجی دستے ایران میں داخل نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام اس تنازع کے نتیجے میں کمزور ہوا ہے اور ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔
ایران کے ساتھ موجودہ تنازع 28 فروری کو شروع ہوا تھا اور ٹرمپ نے ابتدا میں اسے چند ہفتوں تک محدود رہنے کی توقع ظاہر کی تھی۔













