امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ عوام کو ریلیف دلانے کے لیے جماعت اسلامی کی تحریک جاری رہے گی، ملک بھر میں دھرنے اور احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پیر سے مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنوں کا آج 21واں روز ہے، جبکہ سوات میں بڑے جلسہ عام کے بعد دھرنا بھی شروع کردیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کی کال پر عوام کا ردعمل انتہائی زبردست رہا۔ جماعت اسلامی کی احتجاجی کال پرامن ہوتی ہے اور کسی کو زبردستی احتجاج میں شامل نہیں کیا جاتا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی اصولی مخالفت پر قائداعظم کی مہر بھی ثبت ہے، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان
انہوں نے کہا کہ دھرنے اور حکومت سے مذاکرات ساتھ ساتھ جاری رہیں گے۔ حکومت جتنی تاخیر کرے گی، دھرنوں میں اتنا ہی اضافہ ہوگا۔
’ملک بھر میں درجنوں مقامات پر دھرنے جاری ہیں، جبکہ بلوچستان میں 20 مقامات پر احتجاج ہورہا ہے۔ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو جماعت اسلامی پہیہ جام کی طرف بھی جاسکتی ہے۔‘
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ انہیں یقین ہے حکومت پیچھے ہٹے گی اور جماعت اسلامی عوام کے لیے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔ ’جماعت اسلامی اپنے مطالبات کی حمایت میں ملک کے 5 کروڑ عوام سے دستخط بھی لے گی۔‘
مزید پڑھیں: جماعت اسلامی گرینڈ اپوزیشن اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی، حافظ نعیم الرحمان کا صاف انکار
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہورہا ہے تو حکومت پٹرولیم لیوی ختم کرے۔
ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن پر سوال اٹھاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر جماعت اسلامی آواز نہ اٹھاتی تو پیٹرول 500 روپے فی لیٹر کردیا جاتا۔
ان کے مطابق حکومت پالیسی ریٹ میں 3 فیصد کمی کردے تو پٹرولیم لیوی عائد کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
مزید پڑھیں: لاہور میں طویل دھرنے کا عندیہ، ’اٹھانے کی کوشش کی تو اپنا شوق پورا کرلیں‘، حافظ نعیم
امیر جماعت اسلامی نے ملک کے بڑھتے ہوئے قرضوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پر ایک لاکھ ارب روپے سے زائد قرض چڑھ چکا ہے، جبکہ 8 ہزار ارب روپے سالانہ قرض پر سود ادا کیا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شرح سود میں ایک فیصد اضافے سے قرض میں 594 ارب روپے کا اضافہ ہوجاتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے ایف بی آر کی کارکردگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ادارے کی نااہلی کے باعث 1300 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: جماعتِ اسلامی دھرنا: عوام کا مقدمہ لڑ رہے، مطالبات کی منظوری تک کہیں نہیں جارہے، حافظ نعیم الرحمان
انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز سے دوبارہ مذاکرات کے ذریعے بجلی مزید سستی کی جاسکتی ہے، جبکہ ایل این جی نہ آنے کے باوجود ری گیسفیکیشن پلانٹس کو ادائیگیاں کی جارہی ہیں۔
سیاسی صورتحال پر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ ساز باز کے ذریعے جمہوریت کو نقصان پہنچایا، جبکہ کراچی کے عوام مسائل حل نہ ہونے کے باعث الگ صوبے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ وقت میں ’فارم 47 کا ارینجمنٹ‘ ملک پر قابض ہے، جماعت اسلامی ہر اس احتجاج کی حمایت کرتی ہے جو آئینی اور جمہوری طریقے سے کیا جائے۔














