ایران جنگ کے دوران ہفتہ 5 ستمبر کو ایران کے اہم تیل برداری مرکز خارگ جزیرے کے قریب ایک ایرانی تیل بردار جہاز کو متعدد امریکی میزائلوں سے نشانہ بنائے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق خارگ جزیرے کے قریب موجود ایرانی آئل ٹینکر کو کئی امریکی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ تاہم رپورٹ میں جہاز کو پہنچنے والے نقصان یا کسی جانی نقصان کی فوری طور پر کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔
الجزیرہ کی لائیو اپ ڈیٹ کے مطابق یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ جاری ہے اور خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔
BREAKING: An Iranian oil tanker off Kharg Island has been struck by four US missiles and is currently being evacuated, reports Iranian media.
Kharg Island processes around 90% of Iran’s oil exports.
🔴 LIVE updates: https://t.co/El8gMshd61 pic.twitter.com/XvH3AWKOco
— Al Jazeera English (@AJEnglish) September 5, 2026
دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع میں ایران جنگ سے متعلق معلومات کے افشا ہونے کے معاملے کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔ الجزیرہ نے نیویارک ٹائمز کے حوالے سے بتایا کہ پینٹاگون کے تفتیش کاروں نے امریکی جوائنٹ اسٹاف کے تقریباً 50 ارکان کے پولی گراف ٹیسٹ کیے ہیں۔ تحقیقات میں جنگ کے دوران اہم جنگی سازوسامان کی ممکنہ کمی سے متعلق معلومات کے افشا ہونے کا معاملہ بھی شامل ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ’پک ایکس ماؤنٹین‘ کو نشانہ بنانے کی دھمکی ایک بار پھر دہرائی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ اس مقام کو بہت جلد نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ دھمکی پہلی بار جولائی کے وسط میں دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران کشیدگی پھر عروج پر، آبنائے ہرمز کے قریب شادی کی تقریب پر حملہ
ایران کے فرسٹ نائب صدر محمد رضا عارف نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا فوجی محاذ پر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد معاشی جنگ کا سہارا لے رہا ہے۔
خارگ جزیرہ ایران کا اہم تیل برآمدی مرکز ہے، اس لیے اس کے قریب مبینہ حملہ ایران کی تیل کی برآمدات اور خطے میں توانائی کی صورتحال کے حوالے سے اہم پیشرفت سمجھا جا رہا ہے۔














