انسداد دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) نے 9 مئی ہنگامہ آرائی کے دوران جناح ہاؤس حملہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما حماد اظہر کا 20 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔
عدالت نے پولیس کو مزید تفتیش اور حماد اظہر کا موبائل فون برآمد کرنے کے لیے ان کا 20 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا ہے۔
مزید پڑھیں: طویل عرصے سے روپوش حماد اظہر گرفتار، لاہور پولیس کے حوالے
حماد اظہر کو اتوار کے روز ملتان سے گرفتار کرکے مزید کارروائی کے لیے لاہور پولیس کے حوالے کیا گیا تھا۔
حماد اظہر کو ATC عدالت نے 20 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا pic.twitter.com/lHkveUnNJd
— Ali Tanoli (@alitanoli889) September 7, 2026
انہیں قریبی دوست کے گھر سے حراست میں لینے کے بعد آر اے بازار کے علاقے کے قریب منتقل کیا گیا۔ حماد اظہر 9 مئی 2023 کے احتجاج سے متعلق متعدد مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھے جبکہ گورنمنٹ آفیسرز ریزیڈنس (جی او آر) گیٹ پر حملے کے مقدمے میں انہیں اشتہاری قرار دیا جاچکا تھا۔
’عدالت میں سخت سیکیورٹی، فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد سنایا گیا‘
آج لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت میں کیس کی سماعت سخت سیکیورٹی میں ہوئی۔ اے ٹی سی کے جج سردار محمد اکرم خان نے استغاثہ کی جانب سے حماد اظہر کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر دلائل سننے کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔
پراسیکیوشن نے حماد اظہر کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیاکہ مزید تفتیش اور ان کا موبائل فون برآمد کرنے کے لیے پولیس کو ملزم کی تحویل درکار ہے۔
تاہم حماد اظہر کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کو ایک من گھڑت مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے، اس لیے انہیں پولیس کے حوالے نہیں کیا جانا چاہیے۔
سماعت کے آغاز سے قبل عدالت نے میڈیا نمائندوں اور دیگر غیر متعلقہ افراد کو کمرہ عدالت سے باہر جانے کا حکم دیا۔ عدالت میں صرف وکلا اور تفتیشی افسران کو موجود رہنے کی اجازت دی گئی۔
جج نے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ کارروائی شروع ہونے پر انہیں دوبارہ طلب کرلیا جائے گا، جبکہ صحافیوں سمیت تمام غیر متعلقہ افراد کو کمرہ عدالت چھوڑنے کی ہدایت کی گئی۔
’حماد اظہر کی بازیابی اور عدالت میں پیشی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست‘
اس سے قبل حماد اظہر کی والدہ عشرت اظہر نے اپنے بیٹے کی بازیابی اور عدالت میں پیشی کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ حماد اظہر کو 2 روز قبل ملتان سے حراست میں لیا گیا، تاہم اب تک انہیں کسی عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔
درخواست بیرسٹر ابوزر سلمان خان نیازی کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی گئی۔ درخواست میں انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب، کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر لاہور، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اور دیگر کو فریق بنایا گیا۔
’9 مئی کے واقعات، حماد اظہر متعدد مقدمات میں نامزد‘
حماد اظہر کے خلاف مقدمات 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق ہیں، جب پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو کرپشن کے ایک مقدمے میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔
عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوگیا تھا، جس کے دوران مظاہرین نے سرکاری عمارتوں اور فوجی تنصیبات پر حملے کیے اور انہیں آگ لگائی۔
بعد ازاں حماد اظہر کو بھی ان واقعات سے متعلق متعدد مقدمات میں نامزد کیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق عدالت میں پیش نہ ہونے پر انہیں ایک مقدمے میں اشتہاری قرار دیا گیا، جس کے بعد عدالت نے ان کے خلاف مستقل گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیے تھے۔
حماد اظہر لاہور میں گورنمنٹ آفیسرز ریزیڈنس (جی او آر) کے گیٹ پر حملے سے متعلق مقدمے میں پولیس کو مطلوب تھے، جبکہ پولیس کے مطابق وہ 9 مئی کے واقعات سے متعلق 50 سے زیادہ مقدمات میں نامزد ملزم بھی ہیں۔
مزید پڑھیں: این اے 129 ضمنی انتخابات: حماد اظہر کے کاغذات نامزدگی کیوں واپس کیے گئے؟
انسداد دہشتگردی عدالت نے کارروائی میں مسلسل غیر حاضری کے باعث حماد اظہر کو اشتہاری قرار دیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے حفاظتی ضمانت کے حصول کے لیے لاہور اور پشاور ہائیکورٹس سے رجوع کیا تھا۔
مقدمات کے اندراج کے بعد حماد اظہر نے پارٹی عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس سے قبل پی ٹی آئی نے انہیں پنجاب میں پارٹی کی قیادت کی ذمہ داری سونپی تھی۔














