سوشل میڈیا کتابیں پڑھنے کا شوق نئی نسل میں دوبارہ جگانے لگا

پیر 7 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سوشل میڈیا جہاں دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو دوستوں سے رابطے، مقبول ثقافت کی تازہ خبروں اور مختصر تفریحی مواد تک رسائی فراہم کرتا ہے وہیں انٹرنیٹ کا ایک گوشہ لوگوں کو دوبارہ ایک ایسی سرگرمی کی طرف راغب کر رہا ہے جس کا تعلق ڈیجیٹل دنیا سے نہیں بلکہ کتابوں سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی کا پیٹ بھرنے کے لیے کتابیں جلا کر تلف کی جانے لگیں؟ علمی ذخائر کو ٹیکنالوجی سے نیا خطرہ

کتابوں پر گفتگو اور ان کے تبصرے شیئر کرنا کوئی نئی بات نہیں تاہم حالیہ برسوں میں سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر ابھرنے والی ’بک ٹاک‘ اور ’بک اسٹاگرام‘ کی تحریک نے لوگوں کے کتابیں پڑھنے اور اپنی پسند دوسروں تک پہنچانے کے انداز کو نمایاں طور پر بدل دیا ہے۔

ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور یوٹیوب پر بننے والی ان برادریوں میں قارئین، مصنفین اور دیگر تخلیق کار شامل ہیں جو کتابوں سے متعلق مختلف مواد شیئر کرتے ہیں۔ اس میں کتابوں کے تبصرے، کتابوں کی الماریوں کی جھلکیاں اور نئی کتابوں کی سفارشات شامل ہیں۔

اس رجحان کے نتیجے میں بعض کتابیں اچانک مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچ گئی ہیں، کئی لوگوں نے دوبارہ کتابیں پڑھنا شروع کی ہیں اور کچھ قارئین کا کہنا ہے کہ اس کے باعث ان کا اسکرین ٹائم بھی کم ہوا ہے۔

’کتاب پڑھنا مجھے ایک مختلف دنیا میں لے جاتا ہے‘

ایسے ہی قارئین میں برسٹل سے تعلق رکھنے والی 14 سالہ میا بھی شامل ہیں جو کتابیں پڑھنے کی شوقین ہیں۔

میا نے بتایا کہ اگرچہ وہ یوٹیوب پر کتابوں سے متعلق مواد دیکھتی ہیں لیکن اب کتابیں پڑھنے میں زیادہ وقت صرف کرنے کی وجہ سے ان کا اسکرین ٹائم ’یقینی طور پر کم‘ ہوگیا ہے۔

ان کے مطابق دوستوں کی جانب سے کی جانے والی کتابوں کی سفارشات نے بھی انہیں زیادہ پڑھنے کی ترغیب دی۔ ان ہی میں مصنفہ لارین رابرٹس کی رومانوی فینٹسی سیریز ’پاورلیس‘ بھی شامل ہے جس نے انہیں کتابوں کا باقاعدہ شوقین بنا دیا۔

میا کہتی ہیں کہ کتاب پڑھتے ہوئے وہ یہ جاننے کے لیے بے چین رہتی تھیں کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے۔

مزید پڑھیے: اے آئی سے لکھی کتابوں کی یلغار: کیا تخلیقی مصنفین کے لیے مارکیٹ سکڑ رہی ہے؟

ان کے مطابق پہلے وہ نیٹ فلکس اور ڈزنی پلس جیسی تفریحی خدمات پر زیادہ وقت گزارتی تھیں لیکن اب اکثر ان کے سامنے یہ سوال ہوتا ہے کہ وہ ٹی وی سیریز دیکھیں یا اپنی کتاب میں آگے کیا ہونے والا ہے یہ جاننے کے لیے کتاب پڑھیں۔

میا کا کہنا ہے کہ مطالعہ ان کے ذہن کو مصروف رکھتا ہے اور انہیں ایک مختلف دنیا میں لے جاتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اگر کسی شخص کو ایک خاص قسم کی کتاب پسند نہیں تو اسے مطالعہ چھوڑ نہیں دینا چاہیے کیونکہ کتابوں میں کئی مختلف اصناف موجود ہیں۔ ممکن ہے اسے پراسرار کہانیوں کے بجائے رومانوی یا کسی دوسری صنف کی کتاب پسند آجائے۔

’بک ٹاک‘ نے کتابوں کی دکانوں تک جگہ بنا لی

اگرچہ ’بک ٹاک‘ کا آغاز سماجی رابطوں کی ویب سائٹس سے ہوا لیکن اب اس کا اثر کتابوں کی دکانوں تک بھی پہنچ چکا ہے جہاں کئی دکانوں میں ’بک ٹاک‘ کے نام سے الگ حصے قائم کیے گئے ہیں۔

رواں سال برطانیہ میں ’بک ٹاک چارٹ‘ بھی متعارف کرایا گیا جس میں روایتی کتابی درجہ بندیوں، بشمول ’سنڈے ٹائمز‘ کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں کی فہرست، برطانیہ میں کتابوں کی فروخت کے اعداد و شمار اور ’بک ٹاک‘ ہیش ٹیگ کے تجزیے کو یکجا کیا گیا۔

اس چارٹ کی پہلی فہرست میں رومانوی اور رومانوی فینٹسی کتابوں کا غلبہ رہا۔ رومانوی فینٹسی سے مراد ایسی کہانیاں ہیں جن میں رومانس اور فینٹسی دونوں عناصر شامل ہوتے ہیں۔

سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے اپنی کتابوں کی دکان تک

اسی رجحان سے متاثر ہوکر نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ ہولی ارون نے بھی کتابوں کو اپنی زندگی کا اہم حصہ بنا لیا۔

ہولی نے سنہ 2021 میں انسٹاگرام پر ایک اکاؤنٹ بنایا تھا جس کا مقصد کتابوں پر تبصرے شیئر کرنا، نئی کتابیں دریافت کرنا اور رومانوی ادب کے دوسرے شائقین سے رابطہ قائم کرنا تھا۔

وہ بتاتی ہیں کہ بچپن میں انہیں کبھی خاص طور پر کتابیں پڑھنے کا شوق نہیں تھا اور وہ سمجھتی تھیں کہ کتابیں ان کے لیے نہیں ہیں۔

تاہم کوویڈ 19 کی وبا کے دوران ان کی دلچسپی بدل گئی۔ انہوں نے ’ٹوائی لائٹ‘ سلسلے کی کتابیں پڑھنا شروع کیں۔

ہولی کے مطابق انہیں ’ٹوائی لائٹ‘ کی فلمیں بہت پسند تھیں اسی لیے انہوں نے اس کی کتابیں پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ رومانوی ادب پڑھنے کا یہ ان کا پہلا تجربہ تھا لیکن انہوں نے کتابیں اس قدر پسند کیں کہ اس کے بعد مطالعے کا سلسلہ رکنے کے بجائے مسلسل بڑھتا گیا۔

ان کا سماجی رابطوں کا اکاؤنٹ بھی تیزی سے مقبول ہوا اور انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر ان کے پیروکاروں کی تعداد ایک لاکھ 49 ہزار سے تجاوز کر گئی۔

سنہ 2024 میں آکسفورڈ کے ایک سفر کے دوران ہولی اور ان کی والدہ ماریا نے ایک ایسی کتابوں کی دکان قائم کرنے کے بارے میں بات کی جو خصوصی طور پر رومانوی ناولوں کے لیے ہو۔

ہولی کے مطابق نیوزی لینڈ واپس پہنچنے کے بعد دونوں نے فیصلہ کیا کہ زندگی مختصر ہے اس لیے اپنے خواب کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

کئی برس کی منصوبہ بندی کے بعد انہوں نے بالآخر اگست میں سرینسٹر میں ’ہولی ہاکس‘ نامی کتابوں کی دکان قائم کردی جہاں رومانوی ناولوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

مزید پڑھیں: اے آئی نے کتابیں پڑھیں تو مصنفین عدالت پہنچ گئے: آخر کتابوں کے کاپی رائٹ کا مالک کون؟

ہولی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ان کے لیے ایک طرح سے ’سب کچھ یا کچھ بھی نہیں‘ جیسا تھا لیکن اپنے خواب کو حقیقت میں بدلتے دیکھنا انتہائی خوش کن اور قابلِ اطمینان تجربہ ہے۔

کتابوں کی صنعت میں بھی اضافہ

برطانیہ کی پبلشرز ایسوسی ایشن کے مطابق سنہ 2025 میں ملک کی اشاعتی صنعت کی آمدنی ریکارڈ 7.4 ارب پاؤنڈ تک پہنچ گئی۔

ادارے کے مطابق افسانوی ادب، بچوں کی کتابوں اور آڈیو کتابوں کی بڑھتی ہوئی طلب اس اضافے کی اہم وجوہات میں شامل تھی۔

کتابوں کی فروخت کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے ادارے نیلسن آئی کیو بک ڈیٹا کے مطابق سنہ 2025 میں رومانوی اور طویل سلسلہ وار کہانیوں پر مشتمل کتابوں کی فروخت میں 15 فیصد کمی آئی اور تقریباً ایک کروڑ ایک لاکھ کتابیں فروخت ہوئیں۔

تاہم یہ فروخت اب بھی سنہ 2019 کے مقابلے میں تقریباً 2 گنا زیادہ تھی۔

دوسری جانب سائنس فکشن اور فینٹسی کتابوں، جن میں رومانوی فینٹسی بھی شامل ہے کی فروخت گزشتہ برس ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔

ان کتابوں کی فروخت میں ایک سال کے دوران 42 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی طور پر تقریباً 88 لاکھ کتابیں فروخت ہوئیں۔ یہ تعداد سنہ 2019 کے مقابلے میں 183 فیصد زیادہ تھی۔

’سوشل میڈیا کی طاقت حیران کن ہے‘

ہولی کے مطابق اگست میں کتابوں کی دکان کھولنے کے بعد انہیں مقامی رومانوی ادب کے شائقین کے ساتھ ساتھ ایسے افراد سے بھی ملنے کا موقع ملا جو خصوصی طور پر ان کی دکان دیکھنے کے لیے دور دراز علاقوں سے سرینسٹر پہنچے۔

ان کا کہنا ہے کہ کچھ مخصوص عنوانات اور ذیلی اصناف کی کتابیں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے فروخت ہوتی ہیں۔ ان میں ہاکی کے پس منظر میں لکھی گئی رومانوی کہانیاں اور کاؤ بوائے رومانس جیسے موضوعات شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: نیا عالمی مشن: کیا اب ہم انسانی اور اے آئی تخلیق میں فرق کر سکیں گے؟

ہولی کے مطابق ان کتابوں کی مقبولیت میں ’بک ٹاک‘ کا کردار واضح ہے، کیونکہ حالیہ عرصے میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کاؤ بوائے رومانس کا رجحان بہت تیزی سے مقبول ہوا ہے۔

وہ سمجھتی ہیں کہ لوگ کتابوں کے ذریعے ایک بالکل مختلف دنیا میں فرار ہونا پسند کرتے ہیں اور یہی چیز اس رجحان کی مقبولیت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

ہولی کہتی ہیں کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی طاقت انہیں حیران کردیتی ہے۔

مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت سے تیار مواد کے خلاف ردعمل، تخلیق کاروں نے ’غیر معیاری کام‘ مسترد کردیا

یوں بظاہر مختصر ویڈیوز اور تیز رفتار ڈیجیٹل مواد کے لیے مشہور سوشل میڈیا ایک ایسے رجحان کو بھی فروغ دے رہا ہے جو لوگوں خصوصاً نوجوانوں کو اسکرین سے دور کرکے دوبارہ کتاب کے صفحات تک لے جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ سے قبل علی امین گنڈاپور بیمار پڑ گئے، ڈاکٹروں کا مکمل آرام کا مشورہ

وزیراعظم شہباز شریف کی بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں ہر ممکن امداد یقینی بنانے کی ہدایت

خیبر پختونخوا کے 97 ارب روپے کے شہری منصوبے میں 32 ارب کی مبینہ بے ضابطگیاں، نیب تحقیقات تیز

آئندہ ایک ہفتے کے دوران 4 لانگ مارچ :  جڑواں شہروں کی سیکیورٹی سخت، تعلیمی ادارے و مارکٹیں بند رکھنے کا فیصلہ

بھارت میں پاکستان کا خوف برقرار، کٹھوعہ میں ٹرک ڈرائیور مبینہ جاسوسی کے الزام میں گرفتار

ویڈیو

پاکستانی قوم سعودی عرب کے ساتھ کھڑی ہے، شرکا تحفظ حرمین شریفین کانفرنس

’میری بیٹی زندہ اور گھر میں موجود ہے‘، پمز آتشزدگی میں بچ جانے والی نومولود کے والد نے انتقال کی تردید کردی

ہنر سیکھنے کا سفر، بلوچستان کی خواتین مفت بیوٹیشن کورس کے لیے اسلام آباد پہنچ گئیں

کالم / تجزیہ

قاتل لکھاری

سیاست عوام کے لیے کیوں نہیں؟

آپ کا سب سے بڑا مخالف آپ خود ہیں