مصنوعی ذہانت نے جہاں کتاب لکھنے کا عمل پہلے سے کہیں آسان اور تیز کر دیا ہے وہیں اس ٹیکنالوجی نے کتابوں کی دنیا میں ایک نیا مسئلہ بھی پیدا کر دیا ہے۔ اگر چند گھنٹوں یا دنوں میں اے آئی کی مدد سے نئی کتابیں تیار کی جا سکتی ہیں تو کیا (انسانی) مصنفین یا تخلیقی قلمکاروں کے لیے کتابی مارکیٹ میں جگہ کم ہوتی جائے گی؟
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کا پیٹ بھرنے کے لیے کتابیں جلا کر تلف کی جانے لگیں؟ علمی ذخائر کو ٹیکنالوجی سے نیا خطرہ
حالیہ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خدشہ محض نظری نہیں رہا۔ امریکا میں ایمیزون پر فروخت ہونے والی ہزاروں خود شائع شدہ کتابوں کے تجزیے سے پتا چلا ہے کہ اے آئی کے استعمال سے کتابوں کی تعداد بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے تاہم کتابوں کی تعداد میں اضافے کے مقابلے میں مجموعی آمدنی کی رفتار کہیں کم رہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مارکیٹ میں کتابیں زیادہ آ رہی ہیں لیکن قارئین کی توجہ اور رقم اسی رفتار سے نہیں بڑھ رہی۔
14 ہزار سے زیادہ کتابوں کا جائزہ
جولائی 2026 میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی تحقیق میں سنہ 2023 سے 2026 کے دوران ایمیزون پر فروخت ہونے والی 14 ہزار 419 خود شائع شدہ صنفی فکشن کتابوں کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے مکمل متن کا تجزیہ کرکے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ کن کتابوں میں اے آئی سے تیار کردہ متن کا نمایاں حصہ موجود تھا اور پھر ان نتائج کو کتابوں کی فروخت کے اعداد و شمار سے ملایا گیا۔
تحقیق کے مطابق سنہ 2023 کے مقابلے میں سنہ 2026 تک ایسے عنوانات کی تعداد جن کی کسی سہ ماہی میں فروخت ریکارڈ ہوئی تقریباً 19 گنا بڑھ گئی جبکہ اسی عرصے میں سہ ماہی آمدنی تقریباً 9 گنا بڑھی۔ یعنی کتابوں کی رسد میں اضافہ آمدنی کے اضافے سے کہیں زیادہ تیز تھا جس کے نتیجے میں فی فروخت ہونے والی کتاب کی اوسط آمدنی میں کمی دیکھی گئی۔
محققین نے ایسی کتابوں کو بھی الگ سے دیکھا جن کے متن کے 25 فیصد سے زیادہ حصے میں اے آئی سے تیار شدہ تحریر کے شواہد ملے۔ یہ کتابیں مجموعی فروخت میں انسانی تحریر والی کتابوں سے پیچھے رہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کا فروخت میں حصہ اور مقبول ترین درجہ بندیوں میں موجودگی بڑھتی گئی۔
یہاں ایک اہم احتیاط بھی ضروری ہے کہ تحقیق نے ہر کتاب کے مصنف سے یہ نہیں پوچھا کہ اس نے اے آئی استعمال کیا تھا یا نہیں بلکہ محققین نے متن کے تجزیے کے ذریعے اے آئی کے استعمال کا اندازہ لگایا۔ اس لیے ان نتائج کو یہ ثابت کرنے کے طور پر نہیں لینا چاہیے کہ ہر نشان زدہ کتاب مکمل طور پر اے آئی نے لکھی تھی۔
کتاب لکھنا اب پہلے جیسا مشکل نہیں
اے آئی کے آنے سے کتاب لکھنے کی لاگت اور وقت دونوں میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ ایک شخص اب کہانی کا بنیادی خیال دے کر اے آئی سے پلاٹ، کردار، ابواب، مکالمے اور ابتدائی مسودہ تیار کرا سکتا ہے۔ اس کے بعد وہ اسے خود ترمیم کرکے کتاب کی شکل دے سکتا ہے۔
یہاں ایک اہم فرق بھی ہے کہ اے آئی سے مکمل کتاب لکھوانا اور اپنی لکھی ہوئی کتاب میں اے آئی کو معاون کے طور پر استعمال کرنا ایک ہی چیز نہیں۔ کوئی مصنف صرف خیالات پیدا کرنے، زبان بہتر بنانے، املا درست کرنے یا مسودے کی تدوین کے لیے اے آئی استعمال کرسکتا ہے جبکہ دوسرا شخص تقریباً پوری کتاب ہی اے آئی سے تیار کرا سکتا ہے۔
اسی وجہ سے آنے والے برسوں میں ’اے آئی سے بنی کتاب‘ کی اصطلاح بھی شاید اتنی سادہ نہیں رہے گی۔ کتاب میں اے آئی کا استعمال صفر سے لے کر تقریباً مکمل تخلیق تک مختلف درجات میں ہوسکتا ہے۔
ایمیزون پر کتاب خود شائع کرنا بھی آسان ہے
اس تبدیلی میں خود اشاعتی پلیٹ فارمز کا کردار بھی اہم ہے۔ ایمیزون کا کنڈل ڈائریکٹ پبلشنگ یعنی کے ڈی پی کسی شخص کو روایتی پبلشر کے بغیر اپنی کتاب خود شائع کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ مصنف اپنی کتاب کا مسودہ اور سرورق اپ لوڈ کرکے اسے برقی کتاب، پیپر بیک یا ہارڈ کور کی شکل میں فروخت کرسکتا ہے۔
اس نظام نے اشاعت کی وہ رکاوٹ کم کر دی ہے جس میں پہلے مصنف کو پبلشر، ایجنٹ یا بڑے ادارے کی منظوری درکار ہوتی تھی۔ کے ڈی پی کے ذریعے مصنف کتاب کی قیمت، مواد، ڈیزائن اور تشہیر پر خود بھی کنٹرول رکھ سکتا ہے جبکہ ایمیزون اسے دنیا بھر کے قارئین تک پہنچانے کا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
اسی آسانی نے اے آئی کے ساتھ مل کر ایک ایسا ماڈل پیدا کر دیا ہے جس میں کوئی شخص نسبتاً کم خرچ میں بڑی تعداد میں کتابیں تیار کرکے خود شائع کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔
کیا ایمیزون اے آئی کی کتابیں خود شائع کر رہا ہے؟
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہاں زیادہ تر معاملہ اے آئی کمپنیوں کے کتابیں شائع کرنے کا نہیں بلکہ انفرادی افراد اور خود اشاعتی مصنفین کے اے آئی استعمال کرنے کا ہے۔
مزید پڑھیں: کتابیں تو ہیں ہی، یہاں لائبریری سے سلائی مشین بھی ادھار ملتی ہے!
اے آئی کمپنی ایک ایسا نظام فراہم کرتی ہے جو متن، خیالات یا دیگر مواد تیار کرسکتا ہے جبکہ کوئی فرد اس مواد کو کتاب کی شکل دے کر خود اشاعت کے پلیٹ فارم پر فروخت کے لیے پیش کرسکتا ہے۔ بعض صورتوں میں مصنف اے آئی سے صرف مدد لیتا ہے اور بڑی مقدار میں انسانی ترمیم کرتا ہے جبکہ بعض صورتوں میں اے آئی کا کردار کہیں زیادہ وسیع ہوسکتا ہے۔
ایمیزون کے مطابق کے ڈی پی پر شائع کرنے والا شخص اپنے اپ لوڈ کیے گئے مواد کے حقوق کا ذمہ دار خود ہوتا ہے۔ کمپنی اے آئی سے تیار کردہ متن، تصاویر یا تراجم کے بارے میں مصنف سے اس کے استعمال کی اطلاع دینے کا تقاضا بھی کرتی ہے جبکہ صرف اے آئی کی مدد لینے مثلاً تدوین یا خیالات پیدا کرنے کو الگ درجہ دیا گیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اے آئی کا استعمال بذات خود کتاب کو خودکار طور پر ممنوع نہیں بناتا لیکن مصنف کو مواد کے معیار، حقوق اور دیگر قواعد کی ذمہ داری خود اٹھانی ہوتی ہے۔
کتابوں کی تعداد بڑھی مگر قارئین کی توجہ اتنی نہیں بڑھی
یہی وہ مقام ہے جہاں اے آئی کا اثر صرف مصنفین تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری کتابی مارکیٹ کو متاثر کرسکتا ہے۔
جنوری 2026 میں نیشنل بیورو آف اکنامک ریسرچ کے ایک الگ تحقیقی مقالے میں بھی یہ بات سامنے آئی کہ ایل ایل ایمز کے پھیلاؤ کے ساتھ ماہانہ کتابوں کی اشاعت سنہ 2022 سے سنہ 2025 کے آخر تک تقریباً 3 گنا ہوئی۔ تحقیق کے مطابق اوسط استعمال، فروخت کی درجہ بندی اور اوسط ریٹنگ جیسے بعض پیمانوں میں کمی آئی جبکہ سنہ 2025 میں اے آئی پر مشتمل کتابوں کا حصہ نئی کتابوں میں نصف سے بھی زیادہ تک پہنچ گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: کوئٹہ کا انوکھا کیفے جہاں گرما گرم چائے کے ساتھ کتابیں پیش کی جاتی ہیں
اس کا ایک ممکنہ نتیجہ یہ ہے کہ کتابوں کی مارکیٹ میں توجہ سب سے قیمتی چیز بن جائے۔ اگر ہر روز ہزاروں نئی کتابیں سامنے آ رہی ہوں تو کسی انسانی مصنف کے لیے اپنی کتاب کو قارئین کی نظر میں لانا پہلے سے زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔
مصنفین کے لیے اصل خطرہ کیا ہے؟
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اے آئی اچھی یا بری کتاب لکھ سکتا ہے۔ اصل مسئلہ پیداوار کی رفتار اور پیمانے کا ہے۔
ایک مصنف ایک سال میں ایک یا چند کتابیں لکھ سکتا ہے جبکہ اے آئی کی مدد سے کام کرنے والا شخص بہت کم وقت میں درجنوں مسودے تیار کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ اگر ان میں سے کچھ کتابیں معمولی تعداد میں بھی فروخت ہونے لگیں تو مجموعی طور پر وہ مارکیٹ میں بہت بڑی جگہ گھیر سکتی ہیں۔
حالیہ تحقیق نے بھی اسی پہلو کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اے آئی کتابیں لازماً بہترین ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ بڑی تعداد میں پیدا ہونے کی صلاحیت کی وجہ سے مارکیٹ کو تبدیل کرسکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: پرانی کتابوں کا اتوار بازار
یہ صورتحال خاص طور پر ان اصناف میں اہم ہوسکتی ہے جہاں قارئین کی بڑی تعداد آن لائن پلیٹ فارمز سے کتابیں خریدتی ہے اور نئی کتابوں کی دریافت زیادہ تر سرچ، درجہ بندی اور سفارشات کے ذریعے ہوتی ہے۔
کیا اے آئی کتابیں انسانی کتابوں کی جگہ لے لیں گی؟
ابھی اس سوال کا قطعی جواب دینا قبل از وقت ہوگا کہ کیا اے آئی کتابیں انسانی کتابوں کی جگہ لے لیں گی۔
حالیہ تحقیق سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اے آئی سے تیار یا اے آئی سے متاثرہ کتابیں اب اتنی معمولی تعداد میں نہیں رہیں کہ انہیں نظر انداز کیا جاسکے۔ وہ مارکیٹ میں نمایاں جگہ بنا رہی ہیں اگرچہ اوسطاً ان کی کارکردگی انسانی تحریر والی کتابوں سے کم دکھائی دیتی ہے۔
دوسری طرف قارئین کے لیے اے آئی کی مدد سے کم قیمت پر نئی کتابوں کی زیادہ اقسام دستیاب ہونا ایک فائدہ بھی ہوسکتا ہے۔ نئے مصنفین کے لیے خود اشاعت کے دروازے بھی پہلے سے زیادہ کھل سکتے ہیں۔
لیکن اگر کتابوں کی تعداد قارئین کی توجہ سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھتی رہی تو ایک نیا مسئلہ سامنے آ سکتا ہے کہ اچھی کتاب تلاش کرنا خود ایک مشکل کام بن جائے۔
مزید پڑھیے: پرانی اور نایاب کتابوں کی خریداری میں اچانک غیر معمولی اضافہ، وجہ شوق مطالعہ یا کچھ اور؟
اور یہی شاید اے آئی کے دور میں کتابی دنیا کا سب سے بڑا سوال ہوگا۔ مسئلہ یہ نہیں کہ مشین کتاب لکھ سکتی ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ جب مشین لاکھوں کتابیں لکھنے کے قابل ہوجائے تو قارئین کس کتاب کو پڑھنے کے لیے اپنا محدود وقت دیں گے؟














