مصنوعی ذہانت یا اے آئی سے تیار ہونے والی تصاویر، پوسٹرز، مینو اور دیگر تخلیقی مواد کے بڑھتے استعمال کے خلاف دنیا کے مختلف حصوں میں ردعمل سامنے آنے لگا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ‘مصنوعی ذہانت ادیبوں کے اثاثے چرانے میں مشغول، کیا ’خالی کتاب تحریک‘ یہ سلسلہ روک پائے گی؟
تخلیق کاروں اور بعض کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ اے آئی سے تیار مواد میں اصل تخلیقی احساس کی کمی ہوتی ہے اور یہ حقیقی فنکاروں کے روزگار کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔
شمالی آئرلینڈ کے شہر بیلفاسٹ میں حالیہ دنوں ہونے والے ایک ثقافتی میلے کے دوران کئی ایسے پوسٹرز، فلائرز اور کھانے کے مینو نظر آئے جو مصنوعی ذہانت سے تیار کیے گئے تھے۔ لوگوں نے ان ڈیزائنز کو دیکھ کر اندازہ لگانا شروع کردیا کہ یہ حقیقی فنکاروں کے بجائے اے آئی کی مدد سے بنائے گئے ہیں۔
مصنوعی ذہانت نے کاروباروں کے لیے تشہیری مواد کم وقت اور کم خرچ میں تیار کرنا آسان بنا دیا ہے تاہم تخلیقی شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اس رجحان سے فنکاروں، گرافک ڈیزائنرز اور دیگر تخلیق کاروں کے کام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
’چیٹ جی پی ٹی سے کارڈ نہ چھپوائیں‘
بیلفاسٹ میں گریٹنگ کارڈز تیار کرنے والے کرس فیری نے مصنوعی ذہانت سے بنائے گئے ڈیزائنز پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایک ویڈیو میں صارفین سے کہا کہ وہ چیٹ جی پی ٹی سے تیار کردہ ڈیزائن لے کر ان کے پاس پرنٹ کروانے نہ آئیں۔
کرس فیری کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا ان کی محنت، تخلیقی شعبے سے وابستہ تمام افراد اور فنکارانہ کام کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا کام صرف پرنٹنگ نہیں بلکہ لوگوں کے خیالات کو ایک منفرد ڈیزائن میں تبدیل کرنا ہے اور یہی چیز ان کے کاروبار کو دوسروں سے مختلف بناتی ہے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ وہ صارفین کو مورد الزام نہیں ٹھہراتے کیونکہ مصنوعی ذہانت ہر جگہ موجود ہے، استعمال میں آسان ہے اور بہت سے لوگ اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں نہیں سوچتے۔
مزید پڑھیے: اے آئی کا پیٹ بھرنے کے لیے کتابیں جلا کر تلف کی جانے لگیں؟ علمی ذخائر کو ٹیکنالوجی سے نیا خطرہ
ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر اے آئی گرافک ڈیزائنرز کا کام اسی طرح کم کرتی رہی تو مستقبل میں تخلیقی شعبے کے افراد مشکلات کا شکار ہوسکتے ہیں۔
’اے آئی میں تخلیقی روح نہیں‘
گرافک ڈیزائنر اور السٹر یونیورسٹی کی جز وقتی لیکچرر فرانسس اسمتھ نے بھی مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا۔
ان کے مطابق چند سال قبل ان کی تعلیم کے دوران اے آئی زیادہ نمایاں نہیں تھی لیکن اب تخلیقی صنعت کا ہر فرد اس ٹیکنالوجی کے اثرات پر غور کرنے پر مجبور ہے۔
انہوں نے کہا کہ کئی تخلیقی ادارے اس وقت صارفین سے محروم ہو رہے ہیں کیونکہ بعض کاروبار مارکیٹنگ کے اخراجات کم کرنے کے لیے اے آئی کا رخ کر رہے ہیں۔
فرانسس اسمتھ کے مطابق مصنوعی ذہانت فوری طور پر مواد تیار کرسکتی ہے لیکن یہ حقیقی فنکار کی تخلیقی سوچ اور منفرد انداز کو نقل نہیں کرسکتی۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی سے تیار مواد اکثر دہرایا ہوا اور بے جان محسوس ہوتا ہے جبکہ ایک انسان کا بنایا ہوا سادہ ڈیزائن بھی اپنی تخلیقی قدر رکھتا ہے۔
بعض کاروباروں نے اے آئی کے استعمال کا بائیکاٹ کردیا
بیلفاسٹ کے کچھ بارز اور ریستورانوں نے بھی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تخلیقی مواد کے استعمال کے خلاف قدم اٹھایا ہے۔
امریکن بار بیلفاسٹ ان اداروں میں شامل ہے جنہوں نے اپنے ہاں اور سوشل میڈیا پر اے آئی سے تیار کردہ فن پاروں کے استعمال کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا۔
بار انتظامیہ کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت فنکاروں کے روزگار کے لیے حقیقی خطرہ بن رہی ہے جبکہ اس کے ماحولیاتی اثرات بھی ایک اہم مسئلہ ہیں۔
بار کے شریک مالک ٹامس گورمن نے کہا کہ اے آئی خاص طور پر مقامی فنکاروں اور تخلیقی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
ایک اور شریک مالک پیٹر میک کلوسکی کے مطابق ایک کم تجربہ کار انسان کا بنایا ہوا پوسٹر بھی مصنوعی ذہانت کے تیار کردہ مواد سے زیادہ تخلیقی قدر رکھتا ہے۔
سستا متبادل یا تخلیقی شعبے کے لیے خطرہ؟
تھری ریورز ریسٹورنٹ کے مالک مال ہیوسٹن نے بھی ابتدا میں اپنے کاروبار کی تشہیر کے لیے اے آئی سے تیار کردہ پوسٹرز استعمال کیے لیکن بعد میں انہوں نے اپنا فیصلہ تبدیل کردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک اسٹیکر پر اے آئی کو مسترد کریں کا پیغام دیکھ کر انہوں نے اس معاملے پر دوبارہ سوچا۔
مال ہیوسٹن نے کہا کہ اگرچہ اے آئی سستا اور آسان حل فراہم کرتی ہے لیکن دوسری جانب یہ گرافک ڈیزائنرز کے روزگار کو متاثر کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: کیا اے آئی کھلونے بچوں کے جذبات سمجھ سکتے ہیں؟
ان کے مطابق جس طرح ہوٹل اور ریسٹورنٹ کا شعبہ مشکلات کا سامنا کر رہا ہے اسی طرح تخلیقی شعبے کے افراد بھی اے آئی کے باعث متاثر ہو رہے ہیں۔
اے آئی کے خلاف عالمی بحث
مصنوعی ذہانت کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے اور ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی کاروبار، تعلیم اور دیگر شعبوں میں اہم کردار ادا کرے گی تاہم اس کے ساتھ یہ بحث بھی جاری ہے کہ اے آئی کے استعمال کی حدود کیا ہونی چاہییں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو مکمل طور پر مسترد کرنے کے بجائے اس کے ذمہ دارانہ استعمال پر توجہ دینی چاہیے جبکہ تخلیقی شعبے سے وابستہ افراد کا مطالبہ ہے کہ انسانی تخلیق، محنت اور فنکارانہ صلاحیت کی قدر کو نظر انداز نہ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: مزاح نگاری مصنوعی ذہانت کے بس کی بات نہیں، مصنفین
فرانسس اسمتھ کے مطابق اے آئی کا بڑھتا استعمال ناگزیر نہیں بلکہ صارفین خود فیصلہ کرسکتے ہیں کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں اس ٹیکنالوجی کو کس حد تک شامل کرنا چاہتے ہیں۔














