آکسفورڈ یونیورسٹی کے پٹ ریورز میوزیم نے برطانوی نوآبادیاتی دور میں شمال مشرقی بھارت سے لے جائے گئے 39 افراد کی باقیات ناگا برادری کو واپس کرنے کا اعلان کیا ہے۔
میوزیم کے مطابق یونیورسٹی نے ناگا مفاہمتی فورم کی جانب سے جمع کرائی گئی واپسی کی درخواست منظور کرلی ہے، جس کے بعد انسانی باقیات کی وطن واپسی کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں انسانی باقیات کی بڑھتی خرید و فروخت پر تشویش، سخت قوانین کا مطالبہ
پٹ ریورز میوزیم میں دنیا بھر میں ناگا ثقافت سے متعلق نوادرات کا سب سے بڑا ذخیرہ موجود ہے۔
میوزیم کی ڈائریکٹر لورا وان بروک ہوون نے ایک بیان میں کہا کہ یہ انسانی باقیات بہت طویل عرصے سے اپنے آبائی وطن سے دور ہیں، جنہیں اب انہیں واپس کیا جائے گا۔
The Pitt Rivers Museum said it has been "working closely" with the Naga people on finding a date for a handover ceremony, after which a Naga delegation is set to accompany the remains home.
➡️ https://t.co/mxK8dlwv8J pic.twitter.com/VI9Ua01HGx— euronews (@euronews) September 7, 2026
میوزیم کے مطابق یہ باقیات 20ویں صدی کے اوائل میں برطانوی نوآبادیاتی حکام نے جمع کی تھیں۔
ان میں سے بعض انسانی باقیات کو 2020 تک میوزیم میں عوام کے سامنے بھی نمائش کے لیے رکھا گیا تھا، ناگا مفاہمتی فورم سمیت دیگر ناگا تنظیموں نے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔
مزید پڑھیں: ’بِگ ُفٹ’ انسان اور نینڈرتھل کا ملاپ ہے؟ مبینہ باقیات ملنے اور ڈین این اے تجزیے کا نیا دعویٰ
’باقیات کی واپسی محض ہڈیوں اور آباؤ اجداد کی باقیات کو ان کی سرزمین تک پہنچانے کا معاملہ نہیں بلکہ اس کا تعلق اجتماعی یادداشت کی اس جگہ واپسی سے بھی ہے جہاں اس کا اصل مقام ہے۔‘
تنظیموں کے مطابق ناگا برادری کے لیے آباؤ اجداد کی باقیات کی وطن واپسی تاریخی شناخت، یادداشت اور نوآبادیاتی دور کے ورثے سے جڑے ایک اہم عمل کی حیثیت رکھتی ہے۔














