’بِگ ُفٹ’ انسان اور نینڈرتھل کا ملاپ ہے؟ مبینہ باقیات ملنے اور ڈین این اے تجزیے کا نیا دعویٰ

جمعرات 2 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی ریاست نیویارک کے ایڈیرونڈیک پہاڑی سلسلے میں مبینہ طور پر ’بِگ فُٹ‘ کی باقیات دریافت کرنے کا دعویٰ کرنے والے ایک شخص نے کہا ہے کہ ڈی این اے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ پراسرار مخلوق نینڈرتھل اور انسان کے ملاپ سے وجود میں آنے والی ایک ہائبرڈ نوع ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ابتدا میں انسان کس خطے میں مقیم تھا، قدیم کھوپڑی نے نئے راز کھول دیے

چارلس اسٹیورٹ جو خود کو ’اسنیک دی بگ فٹ ہنٹر‘ کے نام سے متعارف کراتے ہیں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اکتوبر 2024 میں ایڈیرونڈیک پہاڑوں سے ایک ایسی مخلوق کی باقیات دریافت کیں جسے بعد میں گزشتہ سال نیویارک اسٹیٹ فیئر میں عوام کے سامنے بھی پیش کیا گیا تھا۔

اسنیک کے مطابق تقریباً 8 فٹ قد اور 300 پاؤنڈ وزن کی حامل اس مخلوق جسے انہوں نے ’ڈیک‘ کا نام دیا ہے کے ڈی این اے ٹیسٹ کروائے گئے جن کے نتائج کے مطابق اس میں 58.5 فیصد نینڈرتھل اور 41.5 فیصد انسانی ڈی این اے موجود ہے۔

انہوں نے ایک حالیہ انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ یہی نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ بگ فٹ کوئی بندر نما مخلوق نہیں بلکہ انسان اور نینڈرتھل کے امتزاج سے وجود میں آنے والی ایک نوع ہو سکتی ہے۔

تاہم بگ فٹ پر تحقیق کرنے والے متعدد ماہرین اور محققین نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ بگ فٹ فیلڈ ریسرچرز آرگنائزیشن سے وابستہ معروف محقق میتھیو منی میکر نے اس دعوے کو دھوکا اور جعلی کہانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسنیک کے پاس بگ فٹ کی حقیقی باقیات موجود ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

مزید پڑھیے: انسان کے مزاج کتنی اقسام کے، قدیم نظریہ کیا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک بگ فٹ کے وجود کے حوالے سے کوئی قابلِ اعتماد سائنسی ثبوت سامنے نہیں آیا جبکہ اسنیک کی جانب سے پیش کیے گئے ڈی این اے نتائج کی بھی آزاد سائنسی ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اس کے باوجود اسنیک کا کہنا ہے کہ وہ اپنی اس مبینہ دریافت کو مزید لوگوں کے سامنے پیش کرتے رہیں گے اور انہیں یقین ہے کہ ان کا دعویٰ بالآخر درست ثابت ہوگا۔

واضح رہے کہ بگ فٹ یا ساسکواچ شمالی امریکا کی لوک کہانیوں میں بیان کی جانے والی ایک پراسرار انسان نما مخلوق ہے جس کے وجود کے دعوے کئی دہائیوں سے کیے جاتے رہے ہیں تاہم سائنسی برادری اب تک اس کے وجود کو تسلیم نہیں کرتی۔

واضح رہے کہ نینڈرتھل انسانوں کی ایک معدوم قدیم نسل تھی جو جدید انسانوں کی قریبی رشتہ دار سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق نینڈرتھل تقریباً 4 لاکھ سے 40 ہزار سال قبل یورپ اور ایشیا کے مختلف علاقوں میں آباد تھے۔ وہ اوزار بنانے، آگ استعمال کرنے اور اجتماعی زندگی گزارنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

سائنسی تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ موجودہ دور کے بعض انسانوں کے ڈی این اے میں نینڈرتھل جینیاتی خصوصیات کی معمولی مقدار موجود ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدیم زمانے میں جدید انسانوں اور نینڈرتھلز کے درمیان اختلاط ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: قدیم دور کے انسانی ڈھانچوں میں پایا جانے والا وائرس آج بھی لوگوں کے پیچھے

تاہم نینڈرتھلز تقریباً 40 ہزار سال قبل معدوم ہو گئے تھے اور آج ان کا وجود صرف فوسلز اور جینیاتی تحقیق کے ذریعے ہی جانا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیراعظم سے اقوام متحدہ کے ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر کی ملاقات، انسانی تعاون بڑھانے پر اتفاق

خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں غیرت کے نام پر پولیس اہلکار اور عورت کا بہیمانہ قتل

اسٹاک مارکیٹ سنبھل گئی، انڈیکس ایک لاکھ 76 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کرگیا

شہدا کی تضحیک ناقابلِ قبول، مولانا فضل الرحمان قوم سے معافی مانگیں، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان

سندھ پبلک سروس کمیشن کیخلاف انکوائری کا حکم معطل، امیدواروں کے انٹرویوز بحال ہونے کی راہ ہموار

ویڈیو

پاک فوج ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہے، مولانا کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے، پشاور کے شہری

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

کالم / تجزیہ

دھڑکتے دل کا فون

کپتانی کا خبط: سیاست سے کھیل تک

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری