وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے شارک کے تحفظ اور پائیدار ماہی گیری کے فروغ کے لیے 10 سالہ قومی منصوبہ پیش کردیا۔
جنید انوار چوہدری نے کہا کہ پاکستان 2035 تک پائیدار شارک ماہی گیری کے شعبے میں نمایاں مقام حاصل کرے گا۔ منصوبے کے پہلے 5 سال کے لیے 50 لاکھ ڈالر تک کے فنڈز درکار ہوں گے۔
مزید پڑھیں:شارک نارنجی کیوں ہے؟ سائنسدانوں نے راز کھول دیا
انہوں نے کہا کہ شارک کے غیرقانونی طور پر فنز کاٹنے کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ شارک کی حادثاتی ہلاکتیں روکنے کے لیے بھی مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ شارک کے سمندری مسکن کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد اور ذخائر کا ہر سال جائزہ لیا جائے گا۔
The incredible healing process of a wounded bull shark over a 27-day period
[🦈 captainjohnmoore] pic.twitter.com/Ld0EgvWzhp
— Massimo (@Rainmaker1973) September 6, 2026
وزیر بحری امور کے مطابق ماہی گیر برادریوں کو متبادل روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، جبکہ شارک کے تحفظ سے متعلق قوانین پر عملدرآمد مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
مزید پڑھیں:نیوزی لینڈ میں لمبی ناک والی بھوت شارک کی نئی اور عجیب قسم دریافت
انہوں نے کہا کہ شارک کا تحفظ عالمی ماحولیاتی معاہدوں کے تحت پاکستان کی ذمہ داری ہے اور قومی منصوبے کا مقصد سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے ساتھ پائیدار ماہی گیری کو فروغ دینا ہے۔














