بانی پی ٹی آئی جیسی طبی سہولیات کا مطالبہ، قیدیوں نے آئینی عدالت سے رجوع کرلیا

منگل 8 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں نے بانی پی ٹی آئی کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اپنے لیے بھی دستیاب کرانے کے مطالبے کے ساتھ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کردیا۔

درخواست میں وفاقی آئینی عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزار قیدیوں کو بھی وہی طبی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا جائے جو بانی پی ٹی آئی کو دستیاب ہیں۔

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ آئین کا آرٹیکل 25 تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کی ضمانت دیتا ہے، اس لیے طبی سہولیات کی فراہمی میں بھی امتیاز نہیں برتا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: عام قیدیوں کو عمران خان جیسا ریلیف دینے کی درخواست، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

درخواست میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جو طبی سہولیات میسر ہیں، وہی سہولیات درخواست گزاروں کو بھی فراہم کی جائیں۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا 18 اگست کا حکم تاحال نافذ العمل ہے، جس کے تحت بانی پی ٹی آئی کو علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں:  جیل سے اسپتال منتقلی کے بعد قیدی کو کیا سہولیات حاصل ہوتی ہیں؟

قیدیوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ سپریم کورٹ کے مذکورہ حکم کی روشنی میں ان کا علاج بھی شفا انٹرنیشنل اسپتال سے کرانے کا حکم دیا جائے۔

درخواست میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو حاصل سہولت کے طرز پر درخواست گزاروں کو بھی واٹس ایپ کے ذریعے بیرون ملک موجود افراد سے بات چیت کی اجازت دی جائے۔

درخواست گزاروں نے وفاقی آئینی عدالت سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے آئینی حقوق کے تحت یکساں طبی اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے احکامات جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp