جیل سے اسپتال منتقلی کے بعد قیدی کو کیا سہولیات حاصل ہوتی ہیں؟

بدھ 19 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے ان کے مکمل طبی معائنے اور علاج کے لیے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمٰی خان اور ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور کو بھی طبی عمل میں شامل رہنے کی اجازت دی ہے۔ عدالتی حکم کے مطابق عمران خان آئندہ سماعت تک اسپتال میں رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی اسپتال منتقلی و اہلخانہ کی ملاقات، بیٹوں سے 2 بار ٹیلیفون پر بات کی اجازت : سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری

سپریم کورٹ نے یہ بھی قرار دیا ہے کہ زیرِحراست شخص انسانی سلوک اور ضروری طبی سہولیات کا حق دار ہے۔ عدالت کے مطابق شفا انٹرنیشنل اسپتال میں عمران خان کے قیام کے دوران فول پروف سیکیورٹی یقینی بنائی جائے گی۔ عدالت نے اہلخانہ کو ہفتے میں ایک مرتبہ ملاقات اور ان کے بیٹوں سے ہفتے میں 2 مرتبہ ٹیلی فون پر بات کرنے کی سہولت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق کسی قیدی کو علاج کی غرض سے جیل سے اسپتال منتقل کیے جانے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس کی قیدی کی حیثیت ختم ہوجاتی ہے۔ اسپتال میں قیام کے دوران بھی وہ ریاست کی تحویل میں رہتا ہے اور اسپتال کے جس حصے میں اسے رکھا جاتا ہے اسے سب جیل قرار دیا جاتا ہے۔ اس دوران وہی قواعد و ضوابط لاگو ہوتے ہیں جو جیل میں اس پر لاگو ہوتے تھے۔

اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد قیدی کو اس کی بیماری اور طبی ضرورت کے مطابق معائنہ، تشخیص، ادویات، لیبارٹری ٹیسٹ اور دیگر ضروری طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

مزید پڑھیے: عمران خان کی اسپتال منتقلی کے فیصلے پر پی ٹی آئی نے جلدی مٹھائی کھالی : طلال چوہدری

عمران خان کے معاملے میں سپریم کورٹ نے خصوصی طور پر ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے، جس میں مختلف شعبوں کے ماہر ڈاکٹر شامل ہوں گے۔ عدالتی حکم کے مطابق میڈیکل بورڈ میں فزیشن، جنرل سرجن، ماہرِ امراضِ داخلیہ، ماہرِ امراضِ چشم اور کارڈیالوجسٹ شامل ہوں گے جبکہ ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمٰی خان کو بھی طبی معائنے اور علاج کے عمل میں شریک رہنے کی اجازت دی گئی ہے۔

اس طرح اسپتال منتقل کیے جانے کا بنیادی مقصد قیدی کو اضافی آزادی دینا نہیں بلکہ اس کی طبی ضرورت کے مطابق بہتر اور مخصوص علاج فراہم کرنا ہوتا ہے۔

ماہرِ قانون حسن رضا پاشا کے مطابق قیدی کے اسپتال منتقل ہونے کے باوجود سیکیورٹی کا بنیادی نظام تبدیل نہیں ہوتا۔ قیدی کے کمرے یا وارڈ کے اردگرد باقاعدہ سیکیورٹی تعینات کی جاتی ہے اور آنے جانے والے افراد کی نگرانی کی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: عمران خان کی اسپتال منتقلی کا معاملہ، سپریم کورٹ کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں، نظرثانی اپیل دائر کریں گے : وفاقی حکومت

ان کا کہنا ہے کہ قیدی کی حفاظت اور فرار کی روک تھام کے لیے پولیس یا جیل حکام کے اہلکار شفٹوں میں ڈیوٹی انجام دے سکتے ہیں اور اسپتال کے جس کمرے میں قیدی کو رکھا جاتا ہے اس کے اطراف سیکیورٹی اہلکار موجود رہتے ہیں اور غیر متعلقہ افراد کا داخلہ اجازت سے مشروط ہوتا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق قیدی کے اسپتال منتقل ہونے سے ملاقات کا حق خود بخود عام شہریوں جیسا نہیں ہوجاتا۔ ملاقاتیں جیل حکام اور عدالت کے احکامات کے مطابق ہی ہوتی ہیں۔ اسپتال میں موجود قیدی سے کون ملاقات کرسکتا ہے، کب کرسکتا ہے اور کتنی دیر کے لیے کرسکتا ہے اس کا فیصلہ جیل سپرنٹنڈنٹ قواعد کے مطابق کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: عمران خان کی اسپتال منتقلی: سینیٹ میں وزیر برائے پارلیمانی امور کی عملدرآمد کی یقین دہانی، پی ٹی آئی اراکین کا خیرمقدم

عمران خان کے معاملے میں سپریم کورٹ نے خود اہلِ خانہ سے ہفتے میں ایک ملاقات کی اجازت دینے کا حکم دیا ہے جبکہ ان کے بیٹوں سے ہفتے میں 2 مرتبہ ٹیلی فون پر بات کرنے کی سہولت بھی دی گئی ہے۔ یعنی اسپتال منتقلی کے باوجود روزانہ یا غیر محدود ملاقات کا حق پیدا نہیں ہوتا بلکہ ملاقات وہی ہوگی جس کی عدالت یا جیل حکام کی جانب سے اجازت دی جائے گی۔

اسپتال میں جب کسی زیرِحراست شخص کو رکھا جاتا ہے تو اس کے کمرے اور اردگرد کے علاقے میں اضافی پابندیاں عائد ہوجاتی ہیں۔

ڈاکٹروں، نرسوں اور ضروری طبی عملے کو طبی ذمہ داریوں کے تحت رسائی حاصل ہوتی ہے جبکہ دیگر افراد کا داخلہ سیکیورٹی کلیئرنس اور اجازت سے مشروط رہتا ہے۔ اس لیے اسپتال میں قیدی کے لیے ماحول جیل کے مقابلے میں نسبتاً مختلف ضرور ہوتا ہے لیکن اسے مکمل آزادانہ نقل و حرکت حاصل نہیں ہوتی۔

مزید پڑھیں: عمران خان کے لیے این آر او حاصل کرنے کی پی ٹی آئی کی خواہش نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے، خواجہ آصف

عمران خان کے معاملے میں سپریم کورٹ نے اہلِ خانہ کی ملاقات کے حوالے سے واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ اس کے علاوہ عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمٰی خان کو میڈیکل بورڈ کا حصہ بنائے جانے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ اس حیثیت سے ان کی اسپتال آمد عام خاندانی ملاقات کے بجائے طبی معائنے اور علاج کے عمل کا حصہ ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp