کرکٹ آسٹریلیا نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی کی مقبول بگ بیش لیگ کی جزوی نجکاری کی جائے گی، جس کا آغاز مالی مشکلات سے دوچار ٹیم میلبورن رینیگیڈز کی فروخت سے ہوگا۔
کرکٹ آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بگ بیش لیگ میں نجی سرمایہ کاری لانا اور کھیل کے مالی مستقبل کو مضبوط بنانا ہے، کیونکہ بیرونِ ملک کھیلی جانے والی منافع بخش ٹی20 لیگز آسٹریلوی کرکٹ کے لیے بڑھتے ہوئے مالی چیلنجز کا باعث بن رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی کھلاڑیوں کو بگ بیش لیگ کھیلنے کی اجازت، کرکٹ آسٹریلیا کی تصدیق
کرکٹ آسٹریلیا کے چیئرمین مائیک بیئرڈ نے کہا کہ رینیگیڈز کی فروخت کا عمل شروع کرنا لیگ کے ارکان کے لیے خودمختاری کے نئے ماڈل کی جانب پہلا قدم ہے اور یہ آسٹریلوی کرکٹ کے لیے ایک اہم فیصلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے لیے کئی ماہ تک وسیع پیمانے پر تجزیہ، مشاورت اور مختلف فریقوں کے درمیان تعاون کیا گیا۔
"This may be the biggest strategic decision Australian cricket makes in a generation."
Cricket Australia CEO Todd Greenberg says opening the BBL to private investment is a $1 billion move. 💰STORY ▶️ https://t.co/G1M68cVEDZ pic.twitter.com/kpjHkqK3K0
— CODE Cricket (@codecricketau) September 8, 2026
کرکٹ آسٹریلیا کے مطابق مستقبل میں بگ بیش لیگ کی دیگر فرنچائزز کو بھی نجی سرمایہ کاروں کے لیے فروخت کیا جاسکتا ہے۔ ادارے کا ہدف ہے کہ 28-2027 کے سیزن تک میلبورن رینیگیڈز کی نئی ملکیت کا تعین ہوجائے۔
ریاست وکٹوریہ کی نمائندگی کرنے والی کرکٹ وکٹوریہ نے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔ کرکٹ وکٹوریہ کے ڈائریکٹر شان رچرڈسن نے کہا کہ کرکٹ کے بدلتے ہوئے منظرنامے کے ساتھ قدم ملانے کے لیے رینیگیڈز کی فروخت مددگار ثابت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس عمل کو آگے بڑھانے اور میلبورن رینیگیڈز کو نجی سرمایہ کاروں کے لیے پیش کرنے کے حوالے سے پرجوش ہیں۔
مزید پڑھیں: بگ بیش وومنز لیگ کا منفرد آغاز، کرکٹرز ٹرافی لے کر سڈنی کی بلند ترین عمارت پر پہنچ گئیں
تاہم بگ بیش لیگ کی نجکاری آسٹریلیا میں ایک حساس اور متنازع معاملہ رہی ہے, رواں سال کے آغاز میں لیگ کی تمام 8 ٹیموں میں حصص فروخت کرنے کی ابتدائی تجویز پر پیش رفت رک گئی تھی، کیونکہ خدشات ظاہر کیے گئے تھے کہ اس سے مقامی کرکٹ اداروں کا کھیل پر کنٹرول کم ہوسکتا ہے۔
وکٹوریہ، ویسٹرن آسٹریلیا اور تسمانیہ کی کرکٹ ایسوسی ایشنز نے اس تجویز کی حمایت کی تھی، جبکہ جنوبی آسٹریلیا نے بھی نجکاری کے امکان کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی۔ تاہم نیو ساؤتھ ویلز اور کوئنز لینڈ نے اس اقدام کی مخالفت کی تھی۔













