بگ بیش لیگ کی جزوی نجکاری کا فیصلہ، میلبورن رینیگیڈز سے آغاز

منگل 8 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کرکٹ آسٹریلیا نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی کی مقبول بگ بیش لیگ کی جزوی نجکاری کی جائے گی، جس کا آغاز مالی مشکلات سے دوچار ٹیم میلبورن رینیگیڈز کی فروخت سے ہوگا۔

کرکٹ آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بگ بیش لیگ میں نجی سرمایہ کاری لانا اور کھیل کے مالی مستقبل کو مضبوط بنانا ہے، کیونکہ بیرونِ ملک کھیلی جانے والی منافع بخش ٹی20 لیگز آسٹریلوی کرکٹ کے لیے بڑھتے ہوئے مالی چیلنجز کا باعث بن رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی کھلاڑیوں کو بگ بیش لیگ کھیلنے کی اجازت، کرکٹ آسٹریلیا کی تصدیق

کرکٹ آسٹریلیا کے چیئرمین مائیک بیئرڈ نے کہا کہ رینیگیڈز کی فروخت کا عمل شروع کرنا لیگ کے ارکان کے لیے خودمختاری کے نئے ماڈل کی جانب پہلا قدم ہے اور یہ آسٹریلوی کرکٹ کے لیے ایک اہم فیصلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے لیے کئی ماہ تک وسیع پیمانے پر تجزیہ، مشاورت اور مختلف فریقوں کے درمیان تعاون کیا گیا۔

کرکٹ آسٹریلیا کے مطابق مستقبل میں بگ بیش لیگ کی دیگر فرنچائزز کو بھی نجی سرمایہ کاروں کے لیے فروخت کیا جاسکتا ہے۔ ادارے کا ہدف ہے کہ 28-2027 کے سیزن تک میلبورن رینیگیڈز کی نئی ملکیت کا تعین ہوجائے۔

ریاست وکٹوریہ کی نمائندگی کرنے والی کرکٹ وکٹوریہ نے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔ کرکٹ وکٹوریہ کے ڈائریکٹر شان رچرڈسن نے کہا کہ کرکٹ کے بدلتے ہوئے منظرنامے کے ساتھ قدم ملانے کے لیے رینیگیڈز کی فروخت مددگار ثابت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس عمل کو آگے بڑھانے اور میلبورن رینیگیڈز کو نجی سرمایہ کاروں کے لیے پیش کرنے کے حوالے سے پرجوش ہیں۔

مزید پڑھیں: بگ بیش وومنز لیگ کا منفرد آغاز، کرکٹرز ٹرافی لے کر سڈنی کی بلند ترین عمارت پر پہنچ گئیں

تاہم بگ بیش لیگ کی نجکاری آسٹریلیا میں ایک حساس اور متنازع معاملہ رہی ہے, رواں سال کے آغاز میں لیگ کی تمام 8 ٹیموں میں حصص فروخت کرنے کی ابتدائی تجویز پر پیش رفت رک گئی تھی، کیونکہ خدشات ظاہر کیے گئے تھے کہ اس سے مقامی کرکٹ اداروں کا کھیل پر کنٹرول کم ہوسکتا ہے۔

وکٹوریہ، ویسٹرن آسٹریلیا اور تسمانیہ کی کرکٹ ایسوسی ایشنز نے اس تجویز کی حمایت کی تھی، جبکہ جنوبی آسٹریلیا نے بھی نجکاری کے امکان کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی۔ تاہم نیو ساؤتھ ویلز اور کوئنز لینڈ نے اس اقدام کی مخالفت کی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی وزیر داخلہ کا اسلام آباد پولیس لائنز اور پاکستان مونومنٹ کا دورہ، پاکستانی پرچم کو بوسہ بھی دیا

بحیرۂ اسود میں تجارتی جہازوں پر حملے، بلغاریہ کا روسی سفیر کو طلب کرنے کا فیصلہ

صارفین کو 1.2 ارب روپے کا ریلیف، بینکنگ محتسب نے 29 ہزار سے زائد شکایات نمٹا دیں

پاکستان سے یورپ کی جانب غیر قانونی نقل مکانی میں 64 فیصد کمی

’آج بھی خود کو بس کنڈکٹر سمجھتا ہوں‘، رجنی کانت نے بس کنڈکٹر کی ملازمت کو اداکاری سے بہتر کیوں قرار دیا؟

ویڈیو

دہشتگردی کے خلاف ایک ملک میں 2 پالیسیاں نہیں چل سکتیں، اعظم نذیر تارڑ اور عطا اللہ تارڑ کی مشترکہ بریفنگ

3 مرتبہ حکومت کے باوجود پی ٹی آئی دیر، پشاور موٹروے بنانے میں ناکام، عوام کا احتجاج

میری بیٹی ڈاکٹر عبد القدیر خان جیسی سائنسدان بننا چاہتی تھی، کاش! میں نے ایجنٹ کی تصدیق کر لی ہوتی، لائبہ کے والد کی دردناک روداد

کالم / تجزیہ

پیپلز پارٹی کہاں کھڑی ہے؟

میری موت، میری مرضی

کیا پی ٹی آئی مولانا فضل الرحمان سے کچھ سیکھ پائے گی؟