الیکشن کمیشن نے ارکان اسمبلی کو اثاثوں کے گوشوارے جمع کرانے کے لیے ڈیڈ لائن دے دی

منگل 8 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے مالی سال 2025-26 کے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی حتمی تاریخ 31 دسمبر 2026 مقرر کردی۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت تمام ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے، شریک حیات اور زیرکفالت بچوں کے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے مقررہ فارم ’بی‘ پر 31 دسمبر 2026 تک الیکشن کمیشن کے پاس جمع کرائیں۔

یہ بھی پڑھیں: سیاسی جماعتیں 29 اگست تک مالی گوشوارے جمع کرائیں، الیکشن کمیشن کی یاددہانی

الیکشن کمیشن کے مطابق مقررہ تاریخ تک گوشوارے جمع نہ کرانے والے ارکان کے نام یکم جنوری کو پریس ریلیز کے ذریعے شائع کیے جائیں گے۔

15جنوری تک گوشوارے جمع نہ کرانے والے ارکان کی رکنیت 16 جنوری کو معطل کردی جائے گی اور گوشوارے جمع کرانے تک وہ پارلیمنٹ یا اسمبلی کی کسی کارروائی میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ اگر کوئی رکن اپنے جمع کرائے گئے گوشواروں میں غلط معلومات فراہم کرنے کا مرتکب پایا گیا تو گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ سے 120 دن کے اندر اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: اثاثہ جات کے گوشوارے جمع نہ کرانے پر خیبرپختونخوا اسمبلی کے 22 اراکین کی رکنیت معطل

ترجمان کے مطابق اثاثوں اور واجبات کے گوشواروں کے لیے فارم ’بی‘ اور متعلقہ ہدایات الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ اسلام آباد، متعلقہ صوبائی الیکشن کمشنر کے دفاتر، سینیٹ سیکریٹریٹ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے سیکریٹریٹس سے مفت حاصل کیے جاسکتے ہیں، جبکہ فارم الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی وزیر داخلہ کا اسلام آباد پولیس لائنز اور پاکستان مونومنٹ کا دورہ، پاکستانی پرچم کو بوسہ بھی دیا

بحیرۂ اسود میں تجارتی جہازوں پر حملے، بلغاریہ کا روسی سفیر کو طلب کرنے کا فیصلہ

صارفین کو 1.2 ارب روپے کا ریلیف، بینکنگ محتسب نے 29 ہزار سے زائد شکایات نمٹا دیں

پاکستان سے یورپ کی جانب غیر قانونی نقل مکانی میں 64 فیصد کمی

’آج بھی خود کو بس کنڈکٹر سمجھتا ہوں‘، رجنی کانت نے بس کنڈکٹر کی ملازمت کو اداکاری سے بہتر کیوں قرار دیا؟

ویڈیو

دہشتگردی کے خلاف ایک ملک میں 2 پالیسیاں نہیں چل سکتیں، اعظم نذیر تارڑ اور عطا اللہ تارڑ کی مشترکہ بریفنگ

3 مرتبہ حکومت کے باوجود پی ٹی آئی دیر، پشاور موٹروے بنانے میں ناکام، عوام کا احتجاج

میری بیٹی ڈاکٹر عبد القدیر خان جیسی سائنسدان بننا چاہتی تھی، کاش! میں نے ایجنٹ کی تصدیق کر لی ہوتی، لائبہ کے والد کی دردناک روداد

کالم / تجزیہ

پیپلز پارٹی کہاں کھڑی ہے؟

میری موت، میری مرضی

کیا پی ٹی آئی مولانا فضل الرحمان سے کچھ سیکھ پائے گی؟