گوگل ڈیپ مائنڈ نے رسمی طور پر اپنا نیا مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ماڈل الفا جينوم ایٹلس متعارف کرا دیا ہے۔ یہ ایک کثیر الجہتی جینیاتی ڈیٹا بیس ہے جو انسانی جينوم میں ممکنہ تمام واحد نیوکلیوٹائڈ تبدیلیوں کی کارکردگی اور اثرات کے بارے میں پیشگوئی فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹائپنگ کی چھٹی، گوگل کے جی میل ، ڈاکومینٹس اور کیپ کے لیے نئے لائیو اے آئی وائس فیچرز متعارف
یہ نیا ماڈل انسانی ڈی این اے میں ایک حرفی جینیاتی تبدیلی کے تمام 9 ارب ممکنہ اثرات کا پہلے سے حساب لگاتا ہے۔
پیٹا بائٹ ڈیٹا
اس تحقیق کے نتیجے میں ایک پیٹا بائٹ (یعنی ایک ہزار ٹیرا بائٹس) کا ایک بہت بڑا ڈیٹا سیٹ تیار ہوا ہے جس سے سائنس دان جینیاتی معلومات کا فوری اور براہِ راست جائزہ لے سکتے ہیں۔
اس ماڈل کا بنیادی مقصد محققین کو ڈی این اے کے کوڈنگ اور نان کوڈنگ دونوں حصوں کے اثرات جانچنے میں مدد دینا ہے تاکہ وہ ہزاروں ڈیٹا پوائنٹس کی تفتیش کیے بغیر اہم اور قیمتی جینیاتی مواقع پر فوری کام کر سکیں۔
نایاب بیماریوں کی تشخیص میں کامیابی
براڈ انسٹی ٹیوٹ کی لورا کوول اور ان کی ٹیم نے نایاب بیماریوں کی تحقیق کے لیے اس ماڈل کا استعمال کیا۔ اس ٹول نے جین ڈی این ایم ون میں ایک ایسی اہم تبدیلی کی نشاندہی کی جس سے غیر واضح سپلائس سائٹ ایکٹیویشن کا پہلے سے علم ہو گیا۔
مزید پڑھیے: ’گوگل اے آئی خلاصہ گلے پڑگیا‘، آن لائن ٹریفک متاثر ہونے پر ببلشرز کا احتجاج
گوگل ڈیپ مائنڈ کے جینیومک لیڈ زیگا اَویک نے اس حوالے سے بتایا کہ اگر کوئی شخص کسی بیماری کا مطالعہ کر رہا ہے اور اسے معلوم نہیں کہ کن سیل ٹائپس یا مالیکیولر عمل کو دیکھنا ہے تو اس کا ایک واحد اسکور (اے وی آئی اسکور) سے آغاز کرنا ایک بہترین نقطہ آغاز ہے جو بھوسے کے ڈھیر سے سوئی ڈھونڈنے کی طرح اہم جینیاتی تبدیلیوں کی نشاندہی میں مدد دیتا ہے۔
عام اور آسان رسائی
گوگل ڈیپ مائنڈ کی جینیاتی دریافتوں کو فروغ دینے کی کوششوں کے تحت ‘ایٹلس’ کو ایک ایسی ویب سائٹ پورٹل کے ذریعے فوری دستیاب کر دیا گیا ہے جس کے استعمال کے لیے کوڈنگ کی صلاحیت یا مہارت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: کیا آپ بھی گوگل میں کام کرنا چاہتے ہیں؟ پاکستان میں نئی اسامیوں کا اعلان
اس قدم سے دنیا بھر کے طبی محققین اور کلینیکل سائنسدانوں کے لیے اس ڈیٹا تک رسائی انتہائی آسان ہو گئی ہے۔














