پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیئر رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی صوبے بنانے کا مطالبہ نہیں کرتی لیکن جہاں جہاں لوگ ایسا مطالبہ کرتے ہیں، ہم ان کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں۔
وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اٹھارویں ترمیم میں صوبوں کو اختیارات تو مِل گئے لیکن صوبوں سے نیچے مقامی حکومتوں کو مالی اور انتظامی اختیارات منتقل کرنے کے حوالے سے قانون سازی نہ کرنا ہماری غلطی تھی۔
مزید پڑھیں: متوقع نئے صوبے: کیا نوجوانوں کو سیاست، سول سروس اور روزگار کے نئے مواقع مل سکیں گے؟
انہوں نے کہاکہ کچھ وزرا کو پتا نہیں کس بات کا گھمنڈ ہے کہ ہم صوبے بنا لیں گے اور جو یہ کہا جا رہا ہے کہ ریفرنڈم کرا لیں گے، جو چیز آئین میں وضاحت کے ساتھ موجود ہے اس پر ریفرنڈم نہیں ہو سکتا۔
قمر زمان کائرہ نے کہاکہ سندھ کی گورننس اتنی خراب نہیں جتنی کہی جاتی ہے۔ صرف بعض میڈیا ہاؤسز روز کراچی کے ابلتے ہوئے گٹر دکھاتے ہیں۔ سندھ میں اگر گورننیس ٹھیک نہیں تو وہاں کے عوام انہیں مسترد کردیں گے۔
انہوں نے کہاکہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی لندن میں مصروفیات ایک روٹین کا معاملہ تھا، اس میں کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔
مریم نواز کے بیان کے بارے میں بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ کو اپنے بیان میں لفظوں کا چُناؤ مناسب رکھنا چاہیے۔
’آئین کے مطابق نئے صوبوں کی بات صرف صوبائی اسمبلی میں شروع ہو سکتی ہے‘
قمر زمان کائرہ نے کہاکہ آئین پاکستان کے مطابق نئے صوبوں کے مطالبے کی بات قومی اسمبلی یا سینیٹ نہیں صوبائی اسمبلی میں شروع ہو سکتی ہے۔ اگر کسی صوبے کے مقامی لوگ، وہاں کے قانون ساز، وہاں کی صوبائی اسمبلی اگر صوبے کا مطالبہ کرتی ہے تو پیپلز پارٹی اس کا ساتھ دے گی۔
انہوں نے کہاکہ آئین کے مطابق صوبائی اسمبلی کی دوتہائی اکثریت اگر نئے صوبے کے لیے قراردار منظور کرتی ہے تو اس کے بعد یہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آئے گی۔ اس کے بغیر پارلیمنٹ اس پر بحث کی مجاز نہیں۔
پی پی پی رہنما نے کہاکہ پنجاب کی اسمبلی اگر صوبوں کا مطالبہ کرتی ہے تو پیپلز پارٹی کہے گی کہ صوبہ بننا چاہیے جو کہ جمہوری بات ہے۔ اگر جنوبی پنجاب کے لوگ صوبے کا مطالبہ کررہے ہیں تو پیپلز پارٹی ان کے مطالبے کی حمایت کرے گی۔ ہم مطالبہ نہیں کررہے، ہم مطالبے کو سپورٹ کررہے ہیں۔
کیا نئے صوبوں کے لیے آئینی ترمیم بھی چپکے سے آجائے گی؟
اس سوال کے جواب میں قمر زمان کائرہ نے کہاکہ 26ویں اور 27 ویں ترامیم کے بارے میں کہنا کہ چپکے سے آ گئیں غلط ہے۔ ہر ترمیم آنے سے پہلے مسوّدہ ہر وزیر کو نہیں مل جاتا۔ یہ صرف وزیراعظم، وزیر قانون اور چند بیوروکریٹس کو معلوم ہوتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ 26 ویں ترمیم کو پی ٹی آئی کی حمایت حاصل تھی، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے راتوں رات منظور ہوگئی۔ 27 ویں ترمیم کے بارے میں ہم نے اپنے مطالبات رکھے۔
انہوں نے کہاکہ 2012 میں جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے کی قراردادیں شاید غیر مؤثر ہو چکی ہیں۔
پی پی پی رہنما نے کہاکہ 2012 میں یہ قرارداد منظور ہوئی، اس پر 14 سال گزر چکے ہیں، کئی حکومتیں آئیں اور گئیں، اگر ان پر عملدرآمد نہیں ہوا تو میری نظر میں ان قراردادوں کی افادیت نہیں رہی۔
قمر زمان کائرہ نے کہاکہ شادی کے لیے بلاول بھٹو زرداری کی عمر بہت ہوگئی ہے بلکہ ہمارے حساب سے تو گزرتی جا رہی ہے، میری دعا ہے کہ وہ جلد شادی شدہ ہو جائیں لیکن میرے پاس اِس حوالے سے کوئی کنفرمیشن نہیں ہے۔
’اس رشتے میں بندھنا زندگی کی تکمیل کی جانب سفر ہے میں دعا گو ہوں کہ جلد ہو جائے۔ اگر مجھے بُلایا جائے گا تو ضرور شرکت کروں گا۔‘
’صوبے بنانے اور توڑنے کا عمل ملک توڑنے کا باعث بن چُکا ہے‘
قمر زمان کائرہ نے کہاکہ انہیں حیرانی ہے کہ محسن نقوی نے بیان کِس طرح سے دے دیا۔ اِس کا مطلب تو یہ ہے کہ صوبے اگر نہیں بھی چاہیں گے تو نئے صوبے بن جائیں گے۔ سیاسی جماعتیں نہیں چاہیں گی تو صوبے کیسے بنیں گے، یہ باتیں ان کو سمجھنی چاہییں لیکن وہ پتا نہیں کس گھمنڈ میں یہ باتیں کررہے ہیں۔
قمر زمان کائرہ نے کہاکہ ہمارے ملک میں صوبے بنانے اور توڑنے کا عمل ملک توڑنے کا باعث بن چُکا ہے۔ اس ملک میں چٹکی بجا کر ون یونٹ بنا دیا گیا اور جب توڑا گیا تو پھر توڑتے ہوئے دیر نہیں لگائی گئی، ان چیزوں کا خیال نہیں رکھا گیا جو ریاست کے اندر دراڑیں بڑھا دیتی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ1973 کے آئین میں صوبے بنانے اور توڑنے کا عمل مُشکل بنا دیا گیا تاکہ ایسا نہ ہو کہ ہر کوئی صوبے بناتا اور توڑتا رہے۔
’آئین پر عمل درآمد ہونا چاہیے‘
قمر زمان کائرہ نے کہاکہ پہلے دن سے ایک بات کررہا ہوں کہ آئین پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔ آئین کے تحت ہم نہ انتخابات درست کراتے ہیں نہ حکومتوں کو چلنے دیتے ہیں اور یہی صورتحال صوبائی حکومتوں کے ساتھ بھی ہوتی ہے۔ آئین میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کو لازمی قرار دیا گیا ہے لیکن ایسا ہم کرتے ہی نہیں۔
انہوں نے کہاکہ اٹھارویں ترمیم میں ہم سے یہ غلطی ہوئی کہ ہم نے صوبوں کو اختیارات تو منتقل کر دیے لیکن مقامی حکومتوں کے قیام، ان کو مالی اور انتظامی اختیارات کی منتقلی کو ہم نے لازمی نہیں بنایا۔ کئی سالوں سے پنجاب میں مقامی حکومتوں کے انتخابات نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہاکہ مقامی حکومتوں کے انتخابات کرانا اُن کے عہدے کی مدت کو تحفظ دینا اِس پر بات ہونی چاہیے۔ مالی اور انتظامی اختیارات کی مقامی حکومتوں تک منتقلی پر بات ہونی چاہیے ورنہ جانتے بوجھتے صوبائی حکومتیں نہ اپنے اختیارات اور نہ اپنی مالیات کی تقسیم چاہتی ہیں۔
مزید پڑھیں: آبادی کے لحاظ سے نئے صوبے بننے چاہییں، سندھ میں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، ایم کیو ایم
کیا چھوٹے صوبوں سے گورننس ٹھیک ہو جائے گی؟
اس پر بات کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت کے محکموں کا کیا کریں گے؟ کیا وہاں سب اچھا ہے؟ آئین میں مقامی حکومتوں کا تذکرہ ہے ہم اُس طرف جانے کے بجائے اس راستے پر چل نکلے ہیں جس پر تصادم کا اندیشہ ہو۔













