کوئٹہ سے کراچی جانے والے شہری اب زمینی راستے کے بجائے فضائی سفر کو زیادہ ترجیح دینے لگے ہیں۔ قومی شاہراہ این 25 پر آئے روز ہونے والے واقعات نے زمینی سفر مشکل بنا دیا ہے، جبکہ بولان ایکسپریس کی معطلی کے باعث ریل کا متبادل بھی دستیاب نہیں، ایسے میں شہریوں کا انحصار فضائی سفر پر بڑھ گیا ہے۔
کوئٹہ اور کراچی کے درمیان سفر کرنے والے شہریوں کو ایک طرف قومی شاہراہ پر سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے تو دوسری جانب کوئٹہ کراچی کے درمیان چلنے والی بولان ایکسپریس بھی گزشتہ 6 ماہ سے بند ہے۔ ہفتے میں 3 مرتبہ مسافروں کو کوئٹہ سے کراچی لے جانے والی ٹرین کی سروس معطل ہونے سے شہریوں کے سفری مسائل مزید بڑھ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ کراچی شاہراہ پر بدامنی، ٹرین سروس کی غیر یقینی صورتحال، شہری مہنگے فضائی سفر پر مجبور
زمینی اور ریلوے سفری سہولیات محدود ہونے کے باعث فضائی سفر شہریوں کے لیے واحد قابلِ عمل متبادل بنتا جارہا ہے، تاہم فضائی ٹکٹوں کے کرایوں میں بھی طلب کے مطابق مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں کوئٹہ کراچی روٹ پر مختلف ایئرلائنز کے ٹکٹ 16 ہزار سے 25 ہزار روپے کے درمیان دستیاب ہیں، جبکہ ایک ماہ قبل یہی کرائے 45 ہزار سے 75 ہزار روپے تک پہنچ گئے تھے۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مقامی ٹریول ایجنٹ شان احمد نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کوئٹہ کراچی کے درمیان چلنے والی پروازوں کے کرایوں میں واضح کمی آئی ہے۔ ہوائی سفر کے کرائے بنیادی طور پر ڈیمانڈ اور سپلائی پر منحصر ہوتے ہیں۔
شان احمد نے کہاکہ اس وقت کراچی میں موسم گرم ہونے کے باعث کوئٹہ سے کراچی جانے والے مسافروں کی تعداد کم ہے اور زیادہ تر افراد علاج یا ضروری کاموں کے سلسلے میں کراچی جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے کرایوں میں کمی دیکھی جارہی ہے۔ تاہم طلب بڑھنے کی صورت میں یہی کرائے دوبارہ بہت زیادہ ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ سے جدہ، پی آئی اے کی خصوصی پروازوں کا آغاز اگست میں ہوگا
ایک اور ٹریول ایجنٹ احمد یار خان نے بتایا کہ اس وقت کوئٹہ کراچی فضائی روٹ پر کرائے اپنی کم ترین سطح پر ہیں۔ روزانہ متعدد پروازیں کوئٹہ اور کراچی کے درمیان چل رہی ہیں، جبکہ مسافروں کی تعداد نسبتاً کم ہونے کے باعث ٹکٹوں کے نرخوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ کے شہری حمزہ جاہ نے کہا کہ قومی شاہراہ پر آئے روز ہونے والے واقعات کے باعث کوئٹہ سے کراچی زمینی سفر کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
حمزہ جان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فضائی کمپنیوں کے کرایوں کی نگرانی کی جائے اور انہیں مناسب سطح پر رکھا جائے تاکہ عام شہری بھی فضائی سفر کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
شہریوں کا موقف ہے کہ قومی شاہراہ پر عدم تحفظ، بولان ایکسپریس کی بندش اور فضائی کرایوں میں اچانک اضافے نے کوئٹہ کراچی سفر کو ایک بڑا مسئلہ بنا دیا ہے، جس کے مستقل حل کے لیے محفوظ زمینی راستے اور ریلوے سروس کی بحالی ناگزیر ہے۔













