پاکستان ہاکی کے سابق کپتان محمد ثقلین نے اپنے کھیل کے زمانے میں دفاع کے محاذ پر حریفوں کے لیے مشکلات کھڑی کیں، لیکن زندگی کا سب سے کڑا مقابلہ انہیں ہاکی کے میدان سے باہر کرنا پڑا۔
کینسر کی تشخیص کے بعد بھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اسی عزم و حوصلے کے ساتھ بیماری کا سامنا کیا جو ان کے کھیل کی نمایاں خصوصیت رہا ہے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے محمد ثقلین نے انکشاف کیا کہ انہیں تقریباً 8 ماہ قبل اورل کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور اس وقت بیماری اسٹیج فور بی تک پہنچ چکی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کینسر کے خلاف جنگ جیتنے کے بعد انجلین ملک نے کیا سیکھا؟ اداکارہ کا جذباتی انکشاف
سابق کپتان کے مطابق ان کے لیے علاج کا مرحلہ انتہائی کٹھن تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں اسٹیج 4 بی کا کینسر تھا اور ان کی تقریباً 18 گھنٹے طویل سرجری ہوئی۔
کینسر جیسے خطرناک مرض کا سامنا کرنے کے باوجود محمد ثقلین نے اپنی بیماری کو عام نہیں کیا اور خاموشی سے علاج کے مختلف مراحل سے گزرتے رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ زندگی میں پہلے ہی بہت سی پریشانیاں موجود ہیں، اس لیے وہ اپنی بیماری بتا کر اپنے عزیزوں اور دوسروں کی پریشانی میں مزید اضافہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔
مزید پڑھیں: لاہور قلندرز نے کینسر سے لڑتے ننھے مداح کے علاج کا اعلان کردیا
طویل اور مشکل علاج کے بعد اب محمد ثقلین کی امیونوتھراپی جاری ہے اور وہ بتدریج معمول کی زندگی کی جانب واپس آچکے ہیں۔
محمد ثقلین کے لیے ہاکی محض ایک کھیل نہیں بلکہ زندگی کو مشکلات کا سامنا کرنے کا سبق بھی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جس طرح وہ کھیل کے میدان میں حریف کے ہر حملے کا مقابلہ کرتے تھے، اسی طرح انہوں نے کینسر کے خلاف بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ کھیل نے انہیں مضبوط بنایا اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کینسر کی جنگ بھی کھیل کے میدان کی طرح لڑی۔
’پاکستان کی شکست کی تکلیف بیماری سے بھی زیادہ ہوتی تھی‘
کینسر سے لڑنے کے تجربے اور صحت یابی کی جانب سفر کا ذکر کرتے ہوئے محمد ثقلین جذباتی ہوگئے اور آبدیدہ نظر آئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیمی فائنل اور فائنل میں شکست کی تکلیف بعض اوقات کینسر کی تکلیف سے بھی زیادہ محسوس ہوتی تھی۔
محمد ثقلین کی داستان صرف ایک سابق کھلاڑی کی بیماری اور صحت یابی کی کہانی نہیں بلکہ عزم، حوصلے اور زندگی سے جڑے رہنے کا پیغام بھی ہے۔
مزید پڑھیں: کینسر کی مریضہ نے لاعلاج قرار دیے جانے کے 5 دن بعد شادی کر لی
کینسر جیسے موذی مرض کو شکست دینے کے بعد ان کا کہنا ہے کہ مشکلات زندگی کا حصہ ہیں، لیکن انسان کو ان کے سامنے ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔
ان کا پیغام ہے کہ تکلیف اور مشکلات زندگی میں آتی رہیں گی، مگر انسان کو ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے، کمزور نہیں پڑنا چاہیے بلکہ خود کو مضبوط رکھنا چاہیے، کیونکہ مشکلات کے سامنے ہمت ہارنے والا زندگی کی حقیقی خوشیوں سے بھی محروم ہوجاتا ہے۔














