پاکستان نے چینی ساختہ مختصر فاصلے تک مار کرنے والا جدید فضائی دفاعی نظام ’ایچ کیو 17 اے ای‘ اپنے دفاعی نظام میں شامل کرلیا ہے، جس سے ڈرونز اور کم بلندی پر پرواز کرنے والے دیگر اہداف کے خلاف پاکستان کی دفاعی صلاحیت مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
مزید پڑھیں:پاک چائنا دوستی: چین میں پاک بحریہ کی تیسری ہنگورکلاس آبدوز کی لانچنگ تقریب
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق پاک فضائیہ کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں پہلی مرتبہ ایچ کیو 17 اے ای نظام کی پاکستان میں موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ نظام چین کے ایچ کیو 17 اے کا برآمدی ورژن ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایچ کیو 17 اے ای کی مؤثر مار کی حد 20 کلومیٹر جبکہ زیادہ سے زیادہ عملی بلندی 10 کلومیٹر تک ہے۔ یہ نظام ڈرونز، ہیلی کاپٹروں، کروز میزائلوں، گائیڈڈ ہتھیاروں اور طیاروں سمیت کم بلندی اور مختصر فاصلے کے خطرات کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
Powered by China’s Defense Industry:
Footage from @DGPR_PAF showcases a range of Chinese-made equipment currently operated by the Pakistan Air Force, including JF-17 Thunder and J-10CE fighter jets, HQ-9BE/HQ-16FE/HQ-17AE air defense systems, PL-15E BVRAAM, and CM-400AKG… pic.twitter.com/stEC74yc9A
— China Military Bugle (@ChinaMilBugle) September 7, 2026
پاکستان اس نظام کا استعمال کرنے والا چوتھا غیر ملکی ملک بن گیا ہے۔ اس سے قبل ایچ کیو 17 اے ای سعودی عرب، سربیا اور تاجکستان کو فراہم کیا جا چکا ہے۔
مزید پڑھیں:سی پیک فیز ٹو پر کام شروع ہو چکا، پاکستان ون چائنا پالیسی پر پوری طرح کاربند ہے، اسحاق ڈار
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے نئے فضائی دفاعی نظام کا انکشاف ایسے وقت میں ہوا ہے جب بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق دوسرے غیر ملکی دفاعی نظاموں کے ساتھ اس چینی نظام کا کامیاب انضمام چین کے لیے اسلحہ برآمد کرنے کے امکانات کو بھی نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔














