خام تیل مہنگا، ایشیائی مارکیٹیں دباؤ کا شکار، پاکستان اسٹاک ایکسچینج بھی مندی کی لپیٹ میں

بدھ 9 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں نئے حملوں کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کے نتیجے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو کاروبار کے آغاز ہی سے منفی رجحان دیکھا گیا۔

بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ابتدائی کاروباری منٹوں میں تقریباً 400 پوائنٹس تک گر گیا، جبکہ اہم شعبوں کے حصص میں بڑے پیمانے پر فروخت ریکارڈ کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ کے اہم شعبے منفی زون میں، انڈیکس میں 454 پوائنٹس کی کمی

صبح 10 بج کر 35 منٹ پر کے ایس ای 100 انڈیکس 373.38 پوائنٹس یعنی 0.22 فیصد کمی کے بعد 172,268.78 پوائنٹس کی سطح پر موجود تھا۔

مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ خاص طور پر آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، فرٹیلائزر اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے شعبوں میں دیکھا گیا۔

ماری پیٹرولیم، پاکستان اسٹیٹ آئل، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، نیشنل بینک اور یونائیٹڈ بینک جیسے انڈیکس پر نمایاں وزن رکھنے والی کمپنیوں کے حصص بھی منفی زون میں کاروبار کرتے رہے۔

پی ایس ایکس میں مندی کا یہ سلسلہ ایک روز قبل بھی جاری رہا، جب جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث سرمایہ کاروں نے مختلف بڑے شعبوں میں منافع کمانے کے لیے شیئرز فروخت کیے تھے۔

مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ کے اہم شعبے منفی زون میں، انڈیکس میں 454 پوائنٹس کی کمی

نتیجتاً منگل کے ایس ای 100 انڈیکس 993.92 پوائنٹس یعنی 0.57 فیصد کمی کے بعد 172,642.16 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

عالمی سطح پر بھی مشرق وسطیٰ کی صورتحال نے مالیاتی منڈیوں کو متاثر کیا ہے، بدھ کو برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی، جس سے ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی محتاط رویہ برقرار رہا۔

سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ طویل جنگی کشیدگی کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی سطح پر مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔

یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے متعدد شہروں پر حملوں، امریکی افواج کی جانب سے ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے اور ایران کے اردن میں امریکی اڈے پر حملے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

مزید پڑھیں: لائیو اسٹاک اور زراعت پر توجہ دے کر ایک سال میں معیشت بہتر کی جا سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف

تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ ہوا، برینٹ خام تیل 1.57 ڈالر اضافے کے بعد 99.49 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 1.60 ڈالر اضافے سے 94.63 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

ایشیائی مارکیٹوں میں ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 0.6 فیصد جبکہ سڈنی اسٹاک مارکیٹ تقریباً 0.3 فیصد نیچے رہی۔ تاہم جاپان کا نکی 0.6 فیصد، جنوبی کوریا کا کوسپی 1.6 فیصد اور تائیوان کا ٹائیکس 0.6 فیصد بہتر ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp