شمالی کوریا نے اپنے مرکزی یونگ بیون جوہری کمپلیکس میں یورینیم افزودگی کی صلاحیت بڑھاتے ہوئے جوہری تنصیبات میں مزید توسیع شروع کردی ہے، جس پر عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
آئی اے ای اے کی 28 اگست کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا نے یونگ بیون کمپلیکس میں یورینیم افزودگی کی ایک نئی تنصیب تعمیر کی ہے، جس میں 28 تک سینٹری فیوج کاسکیڈز نصب کیے جا سکتے ہیں۔ پیانگ یانگ نے دارالحکومت کے قریب واقع کانگ سون افزودگی مرکز میں بھی ایک توسیعی حصے پر کام شروع کردیا ہے، جس سے ملک میں مختلف مقامات پر جوہری انفرااسٹرکچر کی توسیع کا پتا چلتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یونگ بیون میں 2 منزلہ نئی عمارت سامنے آئی ہے جو کمپلیکس میں یورینیم افزودگی کی دوسری تنصیب کے طور پر کام کر رہی ہے۔ جون میں شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کی جاری کردہ تصاویر میں اس عمارت کا کوئی وجود نظر نہیں آیا تھا۔
North Korea has built a new uranium enrichment facility at its main Yongbyon nuclear complex that could house up to 28 centrifuge cascades, the International Atomic Energy Agency said. https://t.co/9g9FvKKcdf
— The Japan Times (@japantimes) September 9, 2026
سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے عمارت کی بالائی اور زیریں دونوں منزلوں پر گیس سینٹری فیوج کاسکیڈز کی تنصیب کے شواہد بھی ملے ہیں۔
آئی اے ای اے کے مطابق کانگ سون میں یورینیم افزودگی کی ایک تنصیب نے جنوری میں کام شروع کیا تھا۔ یہ تنصیب 2024 میں تعمیر کیے گئے ایک توسیعی حصے میں قائم کی گئی ہے۔
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے شمالی کوریا کی جوہری سرگرمیوں میں اضافے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگ سون اور یونگ بیون میں افزودگی کی تنصیبات کا مسلسل آپریشن اور جوہری ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے مواد کی پیداوار میں مزید اضافے کی اطلاعات انتہائی تشویش کا باعث ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:شمالی کوریا نے جوہری صلاحیت رکھنے والا دوسرا جنگی جہاز بحری بیڑے میں شامل کرلیا
اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے کی 2009 کے بعد سے شمالی کوریا میں کوئی موجودگی نہیں ہے۔ پیانگ یانگ مسلسل آئی اے ای اے کے اختیار کو مسترد کرتا رہا ہے اور گزشتہ برس ستمبر میں اس نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ شمالی کوریا کی جوہری ہتھیار رکھنے والے ملک کی حیثیت ناقابلِ واپسی ہے اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے باہر موجود کسی جوہری ملک کے داخلی معاملات میں آئی اے ای اے کو مداخلت کا قانونی حق حاصل نہیں۔














