شمالی کوریا نے جوہری صلاحیت رکھنے والا دوسرا جنگی جہاز بحری بیڑے میں شامل کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا کا بحری جنگی جہاز سے کروز اور اینٹی شپ میزائلوں کا تجربہ
میڈیا رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا کے صدر کم جونگ اُن نے گزشتہ روز مشرقی ساحلی شہر وونسان میں منعقدہ تقریب میں 5 ہزار ٹن وزنی جنگی جہاز ’کانگ کون‘ کو بحریہ میں شامل کیا۔ تقریب میں ان کی نوعمر بیٹی بھی شریک ہوئی، جسے جنوبی کوریا کی انٹیلیجنس سروس ان کی ممکنہ جانشین قرار دیتی ہے۔
جنگی جہاز کی بحری بیڑے میں شمولیت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان نے مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز کیا ہے، جنہیں شمالی کوریا اپنے لیے سیکیورٹی خطرہ سمجھتا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کم جونگ اُن نے کہا کہ مسلسل 2 جنگی جہازوں کو بحری بیڑے میں شامل کیے جانے سے دشمنوں میں خوف پیدا ہوا ہے، جبکہ شمالی کوریا کی بحریہ کو جوہری ہتھیاروں سے لیس کیے جانے کے باعث جوہری دفاع کو زیادہ متنوع اور عملی انداز میں استعمال کرنا ممکن ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا کا ایک بار پھر بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ، علاقائی ممالک کا اظہارِ تشویش
کم جونگ اُن نے کہا کہ دشمنوں کی تشویش میں مزید اضافہ ہوگا، اس لیے طاقتور اور قابلِ اعتماد جوہری جنگی دفاع قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جوہری جنگی نظام کو مختلف اور مؤثر انداز میں استعمال کیا جاسکے اور سمندری دفاع اور جنگی روک تھام کے لیے فوجی سرگرمیوں کو مزید مضبوط بنایا جاسکے۔
’کانگ کون‘ اور ’چوئے ہون‘ دونوں 5 ہزار ٹن وزنی بحری جنگی جہاز ہیں، دونوں جہاز مختلف روایتی اور جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔














