امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی تعطل اور حالیہ فوجی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں ‘برینٹ خام تیل’ کی قیمتیں ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر انرجی کی فراہمی میں شدید تعطل کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
فروری 2026 کے اختتام پر امریکا اور ایران کے درمیان باقاعدہ جنگ کے آغاز کے فوراً بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر کی حد عبور کر گئی تھیں۔
اس مسلح تصادم کے باعث عالمی تیل کی ترسیل کے اہم ترین سمندری راستے ‘آبنائے ہرمز’ پر آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً ’20’ فیصد پیٹرولیم مصنوعات گزرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا، ایران کشیدگی دوبارہ بڑھنے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ
اپریل کے اختتام پر برینٹ خام تیل کی قیمت 126.41 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح پر پہنچی، جبکہ امریکی بنچ مارک ‘ڈبلیو ٹی آئی’ مارچ کے آغاز میں 119.48 ڈالر تک جا پہنچا تھا۔
جون میں چین کی جانب سے طلب میں کمی، مختلف ممالک کے اسٹریٹجک ذخائر مارکیٹ میں لانے اور پاکستان کی ثالثی میں دونوں فریقین کے درمیان طے پانے والی یادداشتِ مفاہمت سے قیمتوں میں عارضی کمی آئی۔
تاہم حالیہ دنوں میں خطے کے اندر فضائی کارروائیوں میں اضافے سے برینٹ دوبارہ 100 ڈالر سے اوپر اور ڈبلیو ٹی آئی ’95’ ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔
رواں صدی میں تیل کی عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ
فروری 2022 میں تیل تیل پیدا کرنے والے اہم ترین ملک روس کے یوکرین پر حملے کے بعد خام تیل کے فیوچر کنٹریکٹس ‘100’ ڈالر سے تجاوز کر گئے۔
مارچ 2022 میں برینٹ ‘139.13’ ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی ‘130.50’ ڈالر کے قریب پہنچ گئے۔ مغرب کی جانب سے روس پر عائد پابندیوں اور کرونا کے بعد بڑھتی طلب کے باعث قیمتیں ‘2022’ کی گرمیوں تک ‘100’ ڈالر سے اوپر رہیں۔
2020 میں کووڈ ’19’ کی عالمی وبا اور تاریخ کی پہلی ‘منفی’ قیمت
کووڈ ’19’ کے باعث دنیا بھر میں کارخانے، دفاتر اور پروازیں بند ہونے سے تیل کی عالمی طلب ختم ہو گئی۔
ذخیرہ اندوزی کی جگہ کی قلت اور سعودی عرب و روس کی بابت قیمتوں کی جنگ کے باعث تاریخ میں پہلی بار ڈبلیو ٹی آئی گر کر منفی ‘40.32’ ڈالر تک چلا گیا، یعنی پیداوار کنندگان خریداروں کو تیل اٹھانے کا معاوضہ دے رہے تھے۔
اسی اثنا میں برینٹ بھی گر کر ‘15.98’ ڈالر کی تاریخی کم ترین سطح پر آ گیا۔
2012 میں ایرانی تیل پر مغربی پابندیاں اور امریکی شیل آئل
یوروزون کے معاشی بحران کے بعد ایران کے ایٹمی پروگرام کو روکنے کے لیے اس کی خام تیل کی برآمدات پر مغربی پابندیوں کے سبب قیمتیں دوبارہ ‘100’ ڈالر سے اوپر نکل گئیں۔
مزید پڑھیں:ایران امریکا معاہدہ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان، وفاقی وزیر پیٹرولیم
شام کے بحران اور مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ کے باعث قیمتیں 2014 تک بلند رہیں، یہ بھی کہ ‘2015’ کے آغاز میں امریکی شیل آئل کی فراہمی سے قیمتیں ’50’ ڈالر سے نیچے آ گئیں۔
2011 میں عرب بہار اور خطے میں سیاسی بدامنی
مارچ 2011 میں مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں ‘عرب بہار’ کی تحریکوں کے نتیجے میں تونس، مصر اور یمن کی حکومتیں ختم ہو گئیں جبکہ تیل پیدا کرنے والا اہم ملک لیبیا شدید بدامنی کا شکار ہوا۔ اس بے چینی سے برینٹ خام تیل کی قیمتیں ‘127’ ڈالر فی بیرل تک جا پہنچیں۔
2008 میں 147.50 ڈالر کا تاریخی ترین ریکارڈ
11 جولائی 2008 کو برینٹ کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح 147.50 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 147.27 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔
امریکا میں ذخائر کی کمی، چین کی مضبوط طلب اور امریکی ڈالر کی قدر میں کمی اس کا سبب بنی۔ تاہم اسی سال کے اختتام تک عالمی مالیاتی بحران کے باعث معاشی کساد بازاری پھیلی اور برینٹ کی قیمت گر کر صرف 36 ڈالر فی بیرل رہ گئی۔














